امریکا کی جانب سے ایران سے ہتھیار ڈالنے کے مطالبے پر جواب دیتے ہوئے ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ ہم مسلمان صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے سر جھکاتے ہیں، اللہ کے سوا کوئی دوسرا ہمیں مغلوب یا مجبور نہیں کر سکتا۔
عراقی وزیراعظم کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے ایرانی صدر نے اس بات کی ضرورت پر زور دیا کہ امریکی حکام خطے کو فوجی دھمکیاں دینا بند کر دیں۔
ایک بیان میں ایران کے صدر مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ اخلاق کے بغیر طاقت کھوکھلی ہے، آج کی دنیا میں افراتفری، جبر، ناانصافی اور لاقانونیت ہے، یہ سیاست کو طاقت تک محدود کرنے کا نتیجہ ہے۔
مسعود پزشکیان کا کہنا تھا کہ ایران خود کو بااخلاق اور ذمہ دار طاقت کے طور پر پیش کر رہا ہے جبکہ ایران کے مخالفین بے لگام اور غیر ذمہ دار قوت کی علامت بنے ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ ایک بار پھر کشیدگی بڑھنے پر دونوں ممالک کے مابین سخت بیانات کا تبادلہ ہوا تھا لیکن اب پاکستان کی سفارتکاری کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں فریڈم پراجیکٹ عارضی طور پر معطل کردیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران کے ساتھ مکمل اور حتمی معاہدے کے لیے بڑی پیش رفت ہوئی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکا کی جانب سے ایران کی ناکہ بندی پوری قوت اور اثر کے ساتھ جاری رہے گی۔
اس سے قبل ایک بیان میں ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا تھا کہ امریکا اور اس کے اتحادیوں نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے، آبنائے ہرمز سے متعلق ایک نئی حکمتِ عملی اب مضبوط ہوتی جا رہی ہے۔