برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ نے اتوار کو ایک بیان میں کولمبیا کے بائیں بازو کے صدر گستاوو پیٹرو کو براہ راست نشانہ بناتے ہوئے انہیں ’منشیات کا غیر قانونی لیڈر‘ قرار دیا، جس پر کولمبیا کی حکومت نے سخت ردعمل دیتے ہوئے ان الفاظ کو ’توہین آمیز‘ اور ناقابل قبول قرار دیا ہے۔
کولمبیا کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ صدر پیٹرو کی ہدایت پر کولمبیا کے امریکا میں سفیر کو مشاورت کے لیے واپس بلا لیا گیا ہے، اور وہ اس وقت بوگوٹا میں موجود ہیں۔ آنے والے چند گھنٹوں میں حکومت مزید فیصلوں کا اعلان کرے گی‘۔
ٹرمپ کے الزامات اور ممکنہ معاشی اقدامات کے اثرات فوری طور پر نظر آئے، اور پیر کو کولمبیا کی کرنسی 1.4 فیصد کمزور ہو کر 3,889 پیسوز فی امریکی ڈالر پر آ گئی۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق، اس کشیدگی کے نتیجے میں کولمبیا کو امریکا کے ساتھ تجارتی تعلقات میں سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ کولمبین-امریکن چیمبر آف کامرس کے مطابق امریکا کولمبیا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ کولمبیا کی 35 فیصد برآمدات امریکا کو جاتی ہیں، جبکہ 70 فیصد درآمدات امریکا سے آتی ہیں، جن میں اکثریت ایسی اشیا کی ہوتی ہے جو کولمبیا میں دستیاب نہیں ہیں۔
صدر ٹرمپ نے کولمبیا کے لیے مالی امداد کی بندش کا اعلان بھی کیا، تاہم انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ وہ کس نوعیت کی امداد کی بات کر رہے تھے۔ ماضی میں کولمبیا، یو ایس ایڈ کے تحت مغربی نصف کرہ میں سب سے زیادہ امریکا کی امداد حاصل کرنے والے ممالک میں شامل رہا ہے، مگر رواں برس یہ امداد اچانک بند کر دی گئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان حالیہ کشیدگی نہ صرف سفارتی تعلقات بلکہ اقتصادی استحکام پر بھی گہرے اثرات ڈال سکتی ہے، اور آنے والے دنوں میں صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔