چمن سیکٹر میں ٹی ٹی اے ، فتنہ الخوارج کی دراندازی کی بڑی کوشش ناکام، کارروائی میں 8 دہشتگرد ہلاک

چمن سیکٹر میں ٹی ٹی اے ، فتنہ الخوارج کی دراندازی کی بڑی کوشش ناکام، کارروائی میں 8 دہشتگرد ہلاک

عسکری ذرائع کے مطابق ٹی ٹی اے اور فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) سے تعلق رکھنے والے دہشتگرد عناصر نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے کی کوشش کی، جسے الرٹ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔

فائرنگ کا شدید تبادلہ اور جانی نقصان

دہشتگردوں اور سیکیورٹی فورسز کے درمیان فائرنگ کا شدید تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 7 سے 8 دہشتگرد ہلاک ہو گئے۔ فائرنگ کے تبادلے کے بعد باقی ماندہ دہشتگرد اپنے ہلاک ساتھیوں کی لاشیں اور بھاری مقدار میں اسلحہ و گولہ بارود جائے وقوعہ پر چھوڑ کر واپس افغانستان کی جانب بھاگ نکلے۔

واقعے کے فوری بعد سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن مکمل کیا اور مزید کسی خطرے کے پیش نظر سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

افغان الزامات کی تردید اور دو ٹوک موقف

افغان حدود سے تعلق رکھنے والے عناصر نے اپنی ناکامی چھپانے کے لیے حسبِ روایت پاکستانی فورسز پر الزامات لگانے کی کوشش کی، جسے پاکستانی سیکیورٹی حکام نے من گھڑت قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ٹی ٹی اے کی چمن بارڈر پر بلا اشتعال فائرنگ، پاکستانی سیکیورٹی فورسز کی مؤثر جوابی کاروائی، افغان طالبان کی متعدد چیک پوسٹس اور بکتر بندٹینک تباہ

سیکیورٹی فورسز کا کہنا ہے کہ اپنی حدود کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے جوابی کارروائی ہمارا قانونی حق ہے اور جب بھی دراندازی کی کوشش کی جائے گی، اسی طرح بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

پاک افغان سرحد (ڈیورنڈ لائن) پر گزشتہ کچھ عرصے سے سیکیورٹی کی صورتحال انتہائی حساس رہی ہے۔ پاکستان مسلسل عالمی سطح پر اور افغان عبوری حکومت کے سامنے یہ احتجاج ریکارڈ کراتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔

پاکستان نے 2600 کلومیٹر طویل سرحد پر خاردار باڑ لگانے کا کام 90 فیصد سے زیادہ مکمل کر لیا ہے، تاہم دہشتگرد عناصر باڑ کو نقصان پہنچا کر یا دشوار گزار راستوں سے دراندازی کی کوششیں کرتے رہتے ہیں۔

مزید پڑھیں:چمن اور زوب بارڈرز پر افغان طالبان کی بلااشتعال فائرنگ، پاکستانی فورسز کا بھرپور اور مؤثر جواب، درجنوں ہلاکتیں، تعلیمی ادارے بند

چمن سرحد تجارت اور نقل و حمل کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے، جس کی وجہ سے شرپسند عناصر یہاں بدامنی پھیلا کر پاک افغان تعلقات اور سرحدی انتظام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

سیکیورٹی حکام کے مطابق علاقے میں صورتحال اب مکمل طور پر قابو میں ہے۔ ہلاک ہونے والے دہشتگردوں سے برآمد ہونے والے اسلحے میں جدید رائفلیں، دستی بم اور مواصلاتی آلات شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ دہشت گردوں کے مکمل خاتمے تک آپریشن جاری رہے گا اور سرحدوں کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

Related Articles