ملک میں مہنگائی کی رفتار ایک بار پھر تیزی اختیار کر چکی ہے اور یہ مسلسل چوتھا ہفتہ ہے کہ ہفتہ وار بنیادوں پر قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ادارہ شماریات کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں مزید 0.22 فیصد اضافہ ہوا ہے، جس کے بعد سالانہ بنیادوں پر مجموعی شرح 5.03 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عوام پہلے ہی بلند قیمتوں، بجلی، گیس اور روزمرہ اشیائے ضروریہ کے بڑھتے ہوئے اخراجات سے پریشان ہیں۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق رواں ہفتے کے دوران ملک بھر میں بیس کے قریب اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں
اضافہ ریکارڈ کیا گیا چھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی دیکھنے میں آئی جبکہ پچیس اشیاء کی قیمتوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں ہوئی۔
اس طرح مجموعی طور پر مارکیٹ میں قیمتوں کا رجحان اوپر کی جانب ہی رہا اعداد و شمار کے مطابق سب سے نمایاں اضافہ سبزیوں اور اشیائے خوردونوش میں ہوا۔
پیاز کی فی کلو قیمت میں پانچ روپے اکیاسی پیسے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جبکہ انڈے فی درجن سات روپے مہنگے ہو گئے چینی کی فی کلو قیمت میں تین روپے ستتر پیسے اور لہسن میں تین روپے چوراسی پیسے کا اضافہ دیکھا گیا۔
ٹماٹر کی قیمت میں بھی اضافہ ہوا اس کے علاوہ تازہ دودھ، دال مسور اور بچوں کے دودھ کی قیمتوں میں بھی اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس سے گھریلو بجٹ پر مزید دباؤ بڑھ گیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ ہوئی تاہم یہ کمی مجموعی اثر کم کرنے کے لیے ناکافی رہی۔ مثال کے طور پر مرغی کا گوشت آٹھ روپے چوبیس پیسے فی کلو سستا ہوا
ایل پی جی کے گھریلو سلنڈر کی قیمت میں تین روپے اٹھہتر پیسے کمی دیکھی گئی جبکہ دال مونگ، آٹا اور گڑ کی قیمتوں میں بھی معمولی کمی ریکارڈ کی گئی۔
اس کے باوجود مارکیٹ میں مہنگائی کا رجحان غالب رہا دوسری جانب، رپورٹ میں ایک مثبت پہلو بھی سامنے آیا ہے بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی چین کو چاول کی برآمدات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے جو 63 فیصد کے قریب ہے۔
ماہرین کے مطابق برآمدات میں یہ اضافہ زرعی شعبے کی بحالی کی علامت ہے اور اس سے زرمبادلہ کے ذخائر کو تقویت ملنے کی امید کی جا رہی ہے۔
تاہم اس کے باوجود مقامی مارکیٹ میں اشیائے خوردونوش کی بڑھتی قیمتیں عام شہری کے لیے تشویش کا باعث بنی ہوئی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں :مہنگائی بے قابو ! گھی اور آٹے کی قیمتوں میں اضافہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر قیمتوں کی نگرانی اور طلب و رسد کے نظام کو بہتر نہ کیاتو آئندہ ہفتوں میں مہنگائی کی شرح میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
موجودہ صورتحال میں عوامی طبقہ ریلیف کے بجائے مزید معاشی دباؤ کا سامنا کر رہا ہے، جس کے اثرات روزمرہ زندگی پر واضح طور پر محسوس کیے جا رہے ہیں۔