عام مکئی سے کہیں زیادہ فائدہ مند؟ جامنی مکئی پر نئی تحقیق سامنے آگئی

عام مکئی سے کہیں زیادہ فائدہ مند؟ جامنی مکئی پر نئی تحقیق سامنے آگئی

جامنی مکئی کو دنیا کی طاقتور ترین اینٹی آکسیڈنٹ غذاؤں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس کا گہرا جامنی رنگ ایسے قدرتی مرکبات کی وجہ سے ہوتا ہے جو جسم کو مختلف بیماریوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

عام زرد مکئی کے برعکس جامنی مکئی میں اینتھوسائننزنامی طاقتور اینٹی آکسیڈنٹس بہت زیادہ مقدار میں پائے جاتے ہیں۔ یہی قدرتی مرکبات بلیو بیریز، بلیک بیریز اور آسائی بیریز کو بھی ان کا مخصوص رنگ دیتے ہیں۔

تحقیقی مطالعات کے مطابق جامنی مکئی میں اینتھوسائننز کی مقدار کئی دیگر غذائی اجناس کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہوتی ہے، جس کی وجہ سے اسے غذائیت سے بھرپور فصل قرار دیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :لیگو کی مکمل سائز سپرکار نے رفتار کا نیا عالمی ریکارڈ قائم کر دیا

ماہرین کا کہنا ہے کہ جامنی مکئی میں موجود اینٹی آکسیڈنٹس جسم کے خلیوں کو آکسیڈیٹو دباؤ اور سوزش سے تحفظ فراہم کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ ابتدائی تحقیق سے یہ بھی اشارہ ملا ہے کہ اس کا استعمال دل کی صحت، خون کی شریانوں کے بہتر افعال، خون میں شوگر کے توازن اور صحت مند بڑھاپے میں معاون ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پگھلے ہوئے پلاسٹک جیسے پروں والا دنیا کا منفرد ترین پرندہ

سائنس دان خاص طور پر سائینیڈن، 3، گلوکوسائیڈ  نامی مرکب پر تحقیق کر رہے ہیں، جو جامنی مکئی میں وافر مقدار میں موجود ہوتا ہے اور اسے صحت بخش خصوصیات کا اہم ذریعہ سمجھا جاتا ہے۔جامنی مکئی صدیوں سے پیرو میں روایتی کھانوں اور مشروبات کا حصہ رہی ہے، جبکہ جدید تحقیق اب اس قدیم اناج کی غذائی اہمیت کو مزید واضح کر رہی ہے۔

ماہرین کے مطابق جامنی مکئی کا رنگ جتنا گہرا اور نمایاں ہوگا، اس میں اینتھوسائننز کی مقدار بھی اتنی ہی زیادہ ہونے کا امکان ہوتا ہے، یعنی اس کا رنگ ہی اس کی غذائی طاقت کی نشاندہی کرتا ہے۔

editor

Related Articles