امریکی محکمہ دفاع کو ایک نامعلوم شہری کی جانب سے 13 کروڑ ڈالر کا عطیہ دیا گیا ہے تاکہ حکومتی شٹ ڈاؤن کے دوران فوجیوں کی تنخواہوں کی ادائیگی متاثر نہ ہو۔
حکام نے اس عطیے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ رقم کو فوجی اہلکاروں کی تنخواہوں اور مراعات کے لیے استعمال کیا جائے گا یہ عطیہ محکمہ دفاع کی جنرل گفٹ ایکسیپٹنس اتھارٹی کے تحت قبول کیا گیا ہے۔
ٹرمپ کے مطابق یہ رقم ملک کے تقریباً 13 لاکھ 20 ہزار فوجیوں کی مالی مدد میں استعمال ہوگی انہوں نے عطیہ دینے والے شخص کا نام ظاہر نہیں کیا لیکن بتایا کہ وہ ایک امریکی شہری اور ٹرمپ کے پرجوش حامیوں میں سے ہے۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس عطیے کے حساب سے ہر فوجی کو تقریباً 100 ڈالر مل سکتے ہیں نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ عطیہ دینے والا شخص ٹیمتھی میلن ہے جو ایک ایسے دولت مند خاندان سے تعلق رکھتے ہیں جس کی دولت کا تخمینہ 15 ارب ڈالر لگایا گیا ہےیہ خاندان ریل انڈسٹری میں نمایاں مقام رکھتا ہے اور اس سے پہلے ٹرمپ کے حامی گروپ کو 5 کروڑ ڈالر کا عطیہ بھی دیا جاچکا ہے۔