مسٹر بیسٹ پر سنگین الزامات، سابق ملازمہ کا عدالت سے رجوع

مسٹر بیسٹ پر سنگین الزامات، سابق ملازمہ کا عدالت سے رجوع

دنیا کے معروف یوٹیوبر مسٹر بیسٹ ایک نئے تنازعے میں گھر گئے ہیں جہاں ان کی کمپنی پر سابق خاتون ملازمہ نے جنسی ہراسانی، صنفی امتیاز اور زچگی کی چھٹی کے بعد ملازمت سے نکالنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :ٓپاکستان کا نیا چہرہ عالمی اسٹیج پر، احمد میمن مسٹر انٹرنیشنل میں جلوہ گر

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق کمپنی کی سابق سوشل میڈیا منیجر لورین میورومیٹس نے نارتھ کیرولینا کی وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کیا ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ زچگی کی چھٹی ختم ہونے کے صرف تین ہفتے بعد ہی انہیں ملازمت سے فارغ کر دیا گیاحالانکہ وہ کئی برسوں سے کمپنی کا حصہ تھیں۔

یہ بھی پڑھیں :لاہور سیشن کورٹ میں رجب بٹ کیس، فردِ جرم ایک بار پھر مؤخر

لورین کے مطابق دورانِ حمل بھی ان پر کام کا دباؤ برقرار رکھا گیا یہاں تک کہ وہ اسپتال میں ہونے کے باوجود میٹنگز میں شریک ہوتی رہیں کیونکہ انہیں خدشہ تھا کہ انکار کی صورت میں نوکری خطرے میں پڑ سکتی ہے۔

مقدمے میں یہ الزام بھی شامل ہے کہ کمپنی کا ماحول خواتین کے لیے نامناسب اور تضحیک آمیز تھا جبکہ کمپنی کے سی ای او جیمز وارن سے متعلق بھی غیر موزوں رویے کا ذکر کیا گیا ہے۔ لورین کا کہنا ہے کہ یہ تمام اقدامات امریکی قوانین خاص طور پر فیملی اینڈ میڈیکل لیو ایکٹ کی خلاف ورزی ہیں۔

دوسری جانب مسٹر بیسٹ کی کمپنی ’بیسٹ انڈسٹریز‘ نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ لورین کو ہراسانی کی وجہ سے نہیں بلکہ تنظیمی تبدیلیوں اور ان کے عہدے کے خاتمے کے باعث ملازمت سے الگ کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں:ٹک ٹاکر کاشف ضمیر کا ایک اور فراڈ بے نقاب

کمپنی نے اپنے مؤقف کے حق میں کچھ پیغامات کے اسکرین شاٹس بھی پیش کیے ہیں جن میں ساتھی ملازمین کی جانب سے لورین کو آرام کرنے کا مشورہ دیا جا رہا ہے تاہم لورین کا کہنا ہے کہ عملی طور پر ادارے کا دباؤ مسلسل برقرار رہا۔

یہ تنازع ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جمی ڈونلڈسن عالمی سطح پر غیر معمولی شہرت رکھتے ہیں اور حالیہ عرصے میں بااثر ترین شخصیات میں شمار کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ قانونی جنگ ان کے برانڈ اور ساکھ کے لیے ایک بڑا امتحان ثابت ہو سکتی ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply