معروف ڈرامہ نگار اور مصنف خلیل الرحمان قمر کے مبینہ ویڈیو کیس میں لاہور کی ضلع کچہری نے ان کی ضمانت خارج کرنے کی درخواست پر فیصلہ جاری کر دیا ہے۔ جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو نے دو صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا کہ ملزم کے خلاف درج مقدمے کی دفعات ناقابلِ ضمانت ہیں، اس لیے ضمانت کی درخواست منظور نہیں کی جا سکتی۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ’ملزم پر درج مقدمے کی دفعات سنگین نوعیت کی ہیں، اس لیے ملزم کی ضمانت کی درخواست مسترد کی جاتی ہے۔ اگرچہ ضمانت کو ملزم کا قانونی حق سمجھا جاتا ہے، تاہم ناقابلِ ضمانت جرائم میں یہ حق لاگو نہیں ہوتا۔‘
فیصلے میں مزید کہا گیا کہ تفتیش کے دوران ملزم کے موبائل فون سے قابلِ اعتراض ویڈیو برآمد ہوئی ہے، جسے شواہد کا حصہ بنایا گیا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ ’ اس نوعیت کے مقدمات میں سائبر کرائم کو معمولی نہیں سمجھا جا سکتا، کیوں کہ یہ جرم نہ صرف متاثرہ فریق بلکہ معاشرتی اقدار کے لیے بھی خطرناک نتائج کا باعث بنتا ہے۔‘
عدالت نے ریمارکس دیے کہ سائبر کرائم کے مقدمات میں ملزم کے کردار، شواہد اور ڈیجیٹل مواد کی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ضروری ہوتا ہے۔ فیصلے میں واضح کیا گیا کہ خلیل الرحمان قمر کی سزا کے خلاف اپیل لاہور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، اس لیے ضمانت کی منظوری اس مرحلے پر مناسب نہیں ہوگی۔
واضح رہے کہ خلیل الرحمان قمر کے خلاف سائبر کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جس میں الزام عائد کیا گیا کہ انہوں نے مبینہ طور پر ایک قابلِ اعتراض ویڈیو بنائی اور اسے ڈیجیٹل ذرائع سے شیئر کیا۔ تفتیشی حکام کے مطابق ویڈیو ملزم کے ذاتی موبائل فون سے برآمد ہوئی۔
ادھر خلیل الرحمان قمر کے قانونی نمائندوں کا مؤقف ہے کہ ان کے موکل کے خلاف کیس جھوٹا اور بے بنیاد ہے اور وہ عدالتِ عالیہ سے انصاف کی توقع رکھتے ہیں۔ کیس کی اگلی کارروائی لاہور ہائی کورٹ میں زیرِ سماعت اپیل کے فیصلے کے بعد متوقع ہے۔