شہر قائد میں ای چالان کے آغاز کے بعد شہریوں خصوصاً کم آمدنی والے طبقے کو بھاری جرمانوں کے باعث شدید پریشانی کا سامنا ہے، تاہم اس حوالے سے ٹریفک پولیس نے شہریوں کے لیے اہم وضاحت جاری کر دی ہے۔
تفصیلات کے مطابق کراچی میں 27 اکتوبر سے ای چالان کا نظام نافذ کیا گیا، جس کے تحت ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے موٹر سائیکل سواروں اور گاڑیوں کے ڈرائیوروں کو خودکار نظام کے ذریعے چالان بھیجے جا رہے ہیں۔ صرف ایک ہفتے کے دوران اوور اسپیڈنگ، سیٹ بیلٹ نہ باندھنے، ہیلمٹ نہ پہننے، ٹریفک سگنل توڑنے، ہیڈ لائٹس، انڈیکیٹر لائٹس یا سائیڈ مرر نہ ہونے کی خلاف ورزیوں پر ہزاروں چالان کیے گئے جن کی مجموعی مالیت کروڑوں روپے تک پہنچ گئی ہے۔
بھاری جرمانوں سے شہری پریشان ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ سندھ کے اس بیان کے بعد کہ “پہلا چالان معاف کیا جائے گا”، عوام کو کچھ ریلیف کی امید پیدا ہوئی تھی۔ تاہم اب ٹریفک پولیس نے اس پالیسی سے متعلق باضابطہ موقف واضح کر دیا ہے۔
ٹریفک پولیس کے مطابق پہلا ای چالان صرف ان شہریوں کے لیے معاف ہوگا جو اپنی خلاف ورزی تسلیم کرتے ہوئے باضابطہ معافی نامہ جمع کرائیں گے۔ اگر وہی شخص دوبارہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرتا ہے تو دوسرے ای چالان کی صورت میں اسے 14 دن کے اندر جرمانہ جمع کرانے پر 50 فیصد رعایت دی جائے گی۔
پولیس حکام کے مطابق، اگر کوئی شہری اپنا ای چالان 21 دن کے اندر جمع کراتا ہے تو اسے مکمل جرمانہ ادا کرنا ہوگا، جبکہ 14 دن کے اندر ادائیگی پر نصف رعایت حاصل ہوگی۔
ٹریفک پولیس نے وضاحت کی کہ مثال کے طور پر اگر کسی موٹر سائیکل سوار نے ٹریفک سگنل توڑا تو اس پر 5 ہزار روپے کا چالان عائد ہوگا، تاہم وہ 14 دن کے اندر یہ جرمانہ ادا کرے تو اسے صرف 2500 روپے ادا کرنے ہوں گے۔
حکام کا کہنا ہے کہ شہریوں کو سہولت دینے کے لیے رعایتی مدت مقرر کی گئی ہے تاکہ ٹریفک قوانین پر عمل درآمد کے ساتھ عوامی دباؤ میں کمی لائی جا سکے۔ پولیس نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ٹریفک قوانین کی پابندی کریں تاکہ حادثات اور جرمانوں سے بچا جا سکے۔