ٹرمپ کو جھٹکا، 34 سالہ ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر منتخب

ٹرمپ کو جھٹکا، 34 سالہ ظہران ممدانی نیویارک سٹی کے پہلے مسلم میئر منتخب

34 سالہ ڈیموکریٹک سوشلسٹ، ظہران ممدانی ریپبلکن امیدوار کرٹس سلوا اور سابق گورنر اینڈریو کومو کو شکست دے کر نیویارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہو گئے ہیں۔

وہ 1892 کے بعد شہر کے میئر بننے والے سب سے کم عمر شخص ہوں گے،  اس کے علاوہ وہ نیو یارک کے پہلے مسلمان میئر کے ساتھ ساتھ افریقہ میں پیدا ہونے والے شہر کے پہلے میئر بھی ہونگے۔

  انہوں نے 67 سالہ سابق ڈیموکریٹک گورنر اینڈریو کومو کو شکست دی، جو پارٹی کی نامزدگی ممدانی سے ہارنے کے بعد آزاد امیدوار کے طور پر انتخاب لڑ رہے تھے، یہ مہم نظریاتی اور نسلی لحاظ سے ایک بڑی آزمائش ثابت ہوئی، جو ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے قومی سطح پر اثرات رکھ سکتی ہے۔

عالمی میڈیا کے مطابق غیرسرکاری نتائج میں ظہران ممدانی 50.3 فیصد یعنی دس لاکھ 24 ہزار 794 ووٹس لے کر آگے رہے، اینڈریو کومو 8 لاکھ 47 ہزار 200 (41.6 فیصد) ووٹ لے کر دوسرے نمبر جبکہ کرٹس سلوا ایک لاکھ 45 ہزار 360 (7.1 فیصد) ووٹ لے کر تیسری نمبر پر ہیں۔

امریکا کے شہر نیو یارک میں میئر کا انتخاب جیتنے والے  زہران ممدانی نے ووٹرز سے پہلے خطاب میں کہا ہے کہ ہم نے نیویارک میں تاریخ رقم کردی، نیویارک میں موروثی سیاست کا خاتمہ کردیا، عوام نے ثابت کردیا کہ طاقت ان کے ہاتھ میں ہے، مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے، نیویارک نے آج تبدیلی کے لیے ووٹ دیا، یکم جنوری کو نیویارک میئر کے عہدے کا حلف اٹھاؤں گا۔

ظہران ممدانی،  جن کی توجہ محنت کش طبقے کے مسائل پر مرکوز ہے اور جن کی ذاتی کشش نے ایک کمزور سمجھی جانے والی مہم کو قومی توجہ کا مرکز بنا دیا، وہ نوجوان اور کرشماتی شخصیت کے مالک ہیں، وہ کسی بھی سیاسی لڑائی سے پیچھے نہیں ہٹے اور بڑے فخر کے ساتھ اپنے بائیں بازو کے خیالات کا دفاع کرتے ہیں۔

ظہران ممدانی کا مقابلہ نیویارک کے سابق گورنر اور آزاد امیدوار اینڈریو کومو اور ری پبلکن حریف کرٹس سلوا سے تھا، نیویارک میئر کے الیکشن میں نئی تاریخ رقم ہوگئی ، نیو یارک بورڈ آف الیکشن کے مطابق 20 لاکھ سے زائد نیویارک کے شہریوں نے ووٹ ڈالا جو 50 سالہ تاریخ میں میئر کے انتخاب میں ووٹ ڈالنے والوں کی سب سے بڑی تعداد ہے۔

یہ بھی پڑھیں : عوامی لیڈر ، نیویارک کے پہلے مسلم میئر ظہران ممدانی کون ہیں؟

پولنگ سٹیشنز پر شہریوں کی بڑی تعداد موجود رہی، 17 لاکھ سے زائد ووٹرز نے حق رائے دہی استعمال کیا، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایلون مسک کی جانب سے مخالفت کے باوجود مسلم امیدوار ظہران ممدانی پہلی بار نیویارک شہر کے میئر منتخب ہوگئے۔

سابق گورنر اینڈریو کوومو اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا کی ممدانی کو مبارکباد

سابق گورنر اینڈریو کوومو اور ریپبلکن امیدوار کرٹس سلیوا نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی کو نیو یارک کا الیکشن جیتنے پر مبارکباد دی ہے۔

اینڈریو کوومو جو کہ نیو یارک کے میئر بھی رہ چکے ہیں نے ممدانی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ وہ شہری حکومت کو ہر قسم کی مدد کرنے کے لیے تیار ہیں۔

خیال رہے کہ نیو یارک کے میئر کے امیدوار کے لیے جون میں منعقد ڈیموکریٹ پارٹی کی پرائمری ریس میں 34 سالہ مسلمان سیاستدان ظہران ممدانی نے سابق گورنر اینڈریو کومو کو حیران کن طور پر پیچھے چھوڑ دیا تھا۔

ڈیموکریٹک سوشلسٹ سیاستدان ظہران ممدانی کا بطور میئر انتخاب نہ صرف صدر ٹرمپ کے لیے بڑا دھچکا ہے بلکہ اس کامیابی کے ساتھ ایک نئی تاریخ رقم ہوئی ہے نہ صرف یہ کہ ظہران ممدانی نیویارک کے پہلے مسلمان میئر منتخب ہوئے ہیں بلکہ پہلے جنوبی ایشائی نژاد میئر جو افریقہ میں پیدا ہوئے۔

یکم جنوری کو عہدہ سنبھالنے پر وہ ایک صدی سے زیادہ کے عرصے کے دوران نیویارک کے سب سے کم عمر میئر بھی ہوں گے۔

مزید پڑھیں: زہران ممدانی نیویارک کے ممکنہ میئر کے طور پر عالمی توجہ کا مرکز

ممدانی کی یہ کامیابی ایک غیر معمولی سیاسی عروج کی علامت ہے،  وہ تین بار منتخب ہونے والے ریاستی اسمبلی کے رکن رہ چکے ہیں اور ایک سال قبل گمنامی میں میئر کے لیے میدان میں اترے تھے، اس وعدے کے ساتھ کہ وہ ملک کے سب سے مہنگے شہروں میں سے ایک کو محنت کش طبقے کے لیے قابل برداشت بنائیں گے۔

بھارتی نژاد امریکی شہری ظہران ممدانی جب ڈیموکریٹک پارٹی کے پرائمری الیکشن کی دوڑ میں شامل ہوئے تو وہ ووٹرز کے لیے ایک اجنبی چہرہ تھے جنہوں نے صدر ٹرمپ کی پالیسیوں کو مسترد کرنے کا وعدہ کیا۔

وہ نیویارک کے علاقے کوینز کی نشست پر ریاستی اسمبلی میں منتخب ہوئے اور اس دوران انہیں دو نمایاں ترقی پسند سیاستدانوں سینیٹر برنی سینڈرز اور الیکزانڈریہ اوکاسیا کی حمایت حاصل ہوئی۔

پرائمری انتخابی مہم کے دوران حریف اینڈریو کومو نے ظہران ممدانی کو ناتجربہ کار قرار دیا تھا جبکہ مسلمان سیاستدان  نے ان پر ہراسانی کے الزامات عائد کیے۔

سال 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ کے پہلے دور حکومت میں اینڈیور کومو صدر کے خلاف ایک تنقیدی آواز بن کر ابھرے تھے جس کی بنیاد پر سابق صدر بل کلنٹن اور نیو یارک کے سابق میئر مائیکل بلومبرگ نے ان کی حمایت کا اعلان کیا تھا۔

ظہران ممدانی فلسطینیوں کی حمایت میں اپنی کھلی اور دوٹوک آواز کے لیے بھی جانے جاتے ہیں۔ انہوں نے ایک موقع پر کہا تھا کہ اگر عالمی عدالت انصاف کو مطلوب اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نیویارک آئیں تو وہ ان کی گرفتاری یقینی بنائیں گے۔

 امریکی صدر ڈونلد ٹرمپ دھمکی دے چکے ہیں کہ ممدانی نے میئر بن کر ’درست اقدامات‘ نہ کیے تو نیو یارک کی فنڈنگ روک دی جائے گی۔

گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی فتح کے بعد، ڈیموکریٹس واشنگٹن میں اقتدار سے باہر ہو گئے تھے، اور اب وہ سیاسی بحران سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں۔

غزالہ ہاشمی ریاستی سطح پر منتخب پہلی مسلم خاتون

غزالہ ہاشمی نے ریپبلکن مصنف اور قدامت پسند ریڈیو میزبان جان ریڈ کو شکست دی، وہ پوری مہم کے دوران سبقت میں رہیں، اگرچہ انتخابات سے قبل کے آخری دنوں میں فرق کچھ کم ہو گیا تھا، غزالہ ہاشمی نے 7 لاکھ 47 ہزار 773 ووٹ (53.8 فیصد) حاصل کیے، جب کہ ان کے ریپبلکن حریف کو 6 لاکھ 59 ہزار 421 ووٹ (46.4 فیصد) ملے۔

جون میں غزالہ ہاشمی نے سخت مقابلے میں سابق رچمنڈ میئر لیور اسٹونی اور ریاستی سینیٹر ایرن راؤس کو شکست دے کر ڈیموکریٹک نامزدگی حاصل کی تھی۔

حیدرآباد، بھارت میں پیدا ہونے والی غزالہ ہاشمی کم عمری میں امریکا منتقل ہوئیں، انہوں نے ایموری یونیورسٹی سے انگریزی میں پی ایچ ڈی کی اور ورجینیا کی کمیونٹی کالجز میں 2 دہائیوں سے زیادہ عرصہ تدریس کے بعد سیاست میں قدم رکھا تھا۔

2019 میں ان کا ریاستی سینیٹ میں انتخاب انہیں ورجینیا کی پہلی مسلم خاتون قانون ساز بنا گیا، اور اب وہ ریاستی سطح پر منتخب ہونے والی پہلی مسلم خاتون بن گئی ہیں۔

ایبیگیل اسپینبرگر ورجینیا کی پہلی خاتون گورنر

ڈیموکریٹ اسپینبرگر نے ریپبلکن ایئرل سیئرز کو شکست دے کر ورجینیا کی گورنر شپ حاصل کی، اس طرح ریاست پر ڈیموکریٹس کا کنٹرول بحال ہو گیا۔  سابق کانگریس وومن اور سی آئی اے افسر اسپینبرگر زیادہ تر مہم کے دوران سبقت میں رہیں، ان کی کامیابی مضبوط فنڈ ریزنگ اور مضافاتی علاقوں میں وسیع حمایت کے مرہون منت تھی، ان کی فتح نے ڈیموکریٹس کو نئی سیاسی توانائی فراہم کی ہے، جو 2024 کے قومی انتخابات میں ناکامی کے بعد اپنی پوزیشن بہتر بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ نے میئر لندن صادق خان کو بدترین میئر قرار دیدیا

47 سالہ اسپینبرگر نے اپنی مہم کو معیشت، عوامی تحفظ کے حق پر مرکوز رکھا، ان کی مہم نے ریپبلکن حریف سیئرز پر سماجی مسائل پر ان کے قدامت پسند مؤقف اور ٹرمپ سے وفاداری کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

امریکی میڈیا کے مطابق نیوجرسی میں گورنر کے انتخاب میں ڈیموکریٹ امیدوار میکی شیرل کو معمولی برتری حاصل ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *