بین الاقوامی کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پاکستانی فاسٹ بولر حارث رؤف پر 2 میچوں کی پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ کارروائی ایشیا کپ کے دوران بھارت کے خلاف ٹی ٹوئنٹی میچز میں آئی سی سی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر کی گئی ہے۔
آئی سی سی کے مطابق حارث رؤف کو چار ڈی میرٹ پوائنٹس دیے گئے، جو کہ بھارت کے خلاف 14 ستمبر اور 28 ستمبر کو ہونے والے 2 الگ الگ واقعات کے باعث کم ہوئے۔ فاسٹ بولر نے دونوں مواقع پر الزامات تسلیم نہیں کیے، جس کے بعد باضابطہ سماعتوں کے بعد پابندی عائد کی گئی۔ آئی سی سی کے قوانین کے تحت اگر کوئی کھلاڑی 24 ماہ کے دوران چار ڈی میرٹ پوائنٹس حاصل کر لیتا ہے تو اس پر خودکار طور پر 2 میچوں کی پابندی نافذ ہو جاتی ہے۔
اس پابندی کے نتیجے میں حارث رؤف نے جنوبی افریقہ کے خلاف فیصل آباد میں ہونے والے پہلے ون ڈے میچ میں شرکت نہیں کی، جو پاکستان نے 2 وکٹوں سے جیتا۔ وہ دوسرا میچ بھی نہیں کھیل سکیں گے اور ہفتے کے روز تیسرے اور آخری میچ کے لیے دستیاب ہوں گے۔
ایشیا کپ 2025 جو سری لنکا اور متحدہ عرب امارات میں منعقد ہوا، میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں کشیدگی میدان میں بھی نظر آئی۔ بھارتی کھلاڑیوں نے تینوں میچوں میں پاکستانی کھلاڑیوں سے ہاتھ ملانے سے انکار کر دیا، حتیٰ کہ ٹاس سے قبل بھی کوئی مصافحہ نہیں ہوا۔
اس رویے پر پاکستانی کپتان سلمان علی آغا نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ بھارتی کھلاڑیوں کا طرزِ عمل ‘کھیل کی روح کے منافی’ ہے۔ تاہم بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو نے اپنی ٹیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ‘کچھ چیزیں کھیل کی روح سے بھی بڑی ہوتی ہیں’۔
پاکستانی ٹیم نے الزام لگایا کہ میچ ریفری اینڈی پائیکرافٹ (زمبابوے) نے کھلاڑیوں کو ہاتھ ملانے سے روکا تھا، جس کے بعد پاکستان نے تقریباً ٹورنامنٹ سے دستبرداری کا فیصلہ کر لیا تھا۔ بعد ازاں ٹیم نے متحدہ عرب امارات کے خلاف اپنا میچ ایک گھنٹے سے زیادہ تاخیر کے بعد اس وقت کھیلا جب اس نے دعویٰ کیا کہ پائیکرافٹ نے معذرت کر لی تھی۔
دیگر کارروائیوں میں پاکستانی اوپنر صاحبزادہ فرحان کو 14 ستمبر کو بھارت کے خلاف میچ میں ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر ایک ڈی میرٹ پوائنٹ اور باضابطہ وارننگ دی گئی۔ بھارتی فاسٹ بولر جسپریت بمرا کو بھی فائنل میچ کے دوران ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر اسی نوعیت کی سزا ملی۔
دوسری جانب، بھارتی کپتان سوریہ کمار یادو کو پاکستان کے خلاف فتح کے بعد سیاسی بیان دینے پر میچ فیس کا 30 فیصد جرمانہ اور دو ڈی میرٹ پوائنٹس دیے گئے۔
آئی سی سی نے اپنے بیان میں کہا کہ یہ کارروائیاں بین الاقوامی کرکٹ کی ‘روح اور سالمیت’ کو برقرار رکھنے کے لیے کی گئی ہیں، خاص طور پر ان مقابلوں میں جو سیاسی طور پر حساس ہوں۔