برطانیہ کی سیاسی تاریخ میں کئی ایسے وزرائے اعظم گزرے ہیں جنہوں نے ایک دہائی یا اس سے بھی زیادہ عرصہ اقتدار سنبھالا لیکن 2016 میں یورپی اتحاد سے علیحدگی کے ریفرنڈم کے بعد ملک کی سیاست مسلسل بحرانوں کی زد میں رہی۔ اس عرصے میں آنے والا کوئی بھی وزیراعظم اپنی آئینی مدت مکمل نہ کر سکا اور ایک کے بعد ایک رہنما سیاسی دباؤ، عوامی ناراضی، معاشی بحران یا جماعتی اختلافات کے باعث اقتدار چھوڑنے پر مجبور ہوا۔
تازہ ترین پیش رفت میں وزیراعظم کیئر اسٹارمر کے استعفے نے اس طویل سیاسی بے یقینی میں ایک اور باب کا اضافہ کر دیا ہے۔
کیئر اسٹارمر کا استعفیٰ، سیاسی بحران کی نئی کڑی
برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر نے اپنے عہدے سے مستعفی ہونے کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ نئی قیادت کے انتخاب تک نگراں وزیراعظم کے طور پر ذمہ داریاں انجام دیتے رہیں گے تاکہ اقتدار کی منتقلی منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔
ان کے استعفے کے بعد ایک بار پھر یہ سوال اٹھنے لگا ہے کہ آخر برطانیہ میں ایسا کیا ہوا کہ گزشتہ دس برس کے دوران کوئی بھی وزیراعظم اپنی مدت پوری نہ کر سکا۔
بریگزٹ ریفرنڈم: سیاسی زلزلے کی ابتدا
اصل کہانی جون 2016 میں شروع ہوئی جب اس وقت کے وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے برطانیہ کے یورپی اتحاد میں رہنے یا نکلنے کے معاملے پر عوامی ریفرنڈم کرایا۔
دلچسپ بات یہ تھی کہ ڈیوڈ کیمرون خود یورپی اتحاد میں رہنے کے حامی تھے اور اس مؤقف کے حق میں بھرپور مہم بھی چلا رہے تھے، تاہم عوام نے ان کی رائے کے برعکس یورپی اتحاد سے علیحدگی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔
ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد ڈیوڈ کیمرون نے سیاسی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے استعفیٰ دے دیا حالانکہ وہ 2015 کے انتخابات میں واضح اکثریت کے ساتھ دوسری مرتبہ وزیراعظم منتخب ہوئے تھے اور ان کی حکومت 2020 تک جاری رہنی تھی۔
تھریسا مے
ڈیوڈ کیمرون کے استعفے کے بعد جولائی 2016 میں تھریسا مے نے وزارت عظمیٰ سنبھالی اور ان کے سامنے سب سے بڑا چیلنج برطانیہ کی یورپی اتحاد سے علیحدگی کے لیے قابل قبول معاہدہ تیار کرنا تھا۔
تھریسا مے نے کئی بار پارلیمنٹ میں اپنی تجاویز پیش کیں لیکن انہیں بار بار مسترد کر دیا گیا۔ ان کی جماعت کے اندر بھی شدید اختلافات پیدا ہوگئے اور بریگزٹ معاہدے کے معاملے پر انہیں سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔تقریباً تین سال تک کوششوں کے باوجود جب وہ سیاسی تعطل ختم نہ کر سکیں تو بالآخر 2019 میں استعفیٰ دے دیا۔
بورس جانسن
تھریسا مے کے بعد بورس جانسن اقتدار میں آئے۔ انہوں نے وہ کام کر دکھایا جو ان کی پیش رو نہ کر سکیں اور برطانیہ کو یورپی اتحاد سے علیحدہ کرنے کا معاہدہ مکمل کر لیا۔
تاہم بریگزٹ کی کامیابی بھی ان کی حکومت کو بچا نہ سکی۔ کورونا وبا کے دوران حکومتی تقریبات سے متعلق مشہور ’’پارٹی گیٹ‘‘ اسکینڈل، اخلاقی تنازعات اور متعدد وزرا کے اجتماعی استعفوں نے ان کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔بالآخر اپنی جماعت کا اعتماد کھونے کے بعد بورس جانسن بھی تقریباً تین سال اقتدار میں رہنے کے بعد مستعفی ہوگئے۔
لز ٹرس: صرف 44 دن کی وزارت عظمیٰ
ستمبر 2022 میں لز ٹرس نے وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا لیکن ان کا دور حکومت برطانیہ کی تاریخ کا مختصر ترین دور ثابت ہوا۔ان کے پیش کردہ متنازع مالیاتی منصوبے نے منڈیوں میں شدید بے چینی پیدا کردی۔ قومی کرنسی کی قدر میں نمایاں کمی آئی اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کو دھچکا پہنچا۔معاشی بحران اور جماعتی دباؤ کے باعث لز ٹرس صرف 44 دن بعد ہی مستعفی ہوگئیں اور یوں ایک اور وزیراعظم اپنی مدت مکمل کرنے میں ناکام رہا۔
رشی سونک
لز ٹرس کے بعد بھارتی نژاد رشی سونک نے اکتوبر 2022 میں اقتدار سنبھالا۔ انہوں نے معیشت کو مستحکم کرنے اور سیاسی اعتماد بحال کرنے کی کوشش کی تاہم مہنگائی، معاشی سست روی، غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے اور عوامی بے چینی نے ان کی حکومت کو کمزور رکھا۔بالآخر عام انتخابات میں ان کی جماعت کو تاریخی شکست کا سامنا کرنا پڑا اور اقتدار لیبر پارٹی کے ہاتھ میں چلا گیا۔
2024 کے انتخابات میں لیبر پارٹی نے تاریخی کامیابی حاصل کی اور کیئر اسٹارمر وزیراعظم بنے۔ عوام کو امید تھی کہ شاید اب سیاسی استحکام واپس آجائے گا، لیکن ایسا نہ ہو سکا۔
بلدیاتی انتخابات میں مایوس کن نتائج، جماعت کے اندر بڑھتے اختلافات، متعدد وزرا کے استعفے اور حکومتی پالیسیوں پر شدید تنقید نے ان کی پوزیشن کمزور کردی۔
بالآخر انہوں نے جماعتی قیادت اور وزارت عظمیٰ دونوں سے دستبردار ہونے کا اعلان کر دیا، یوں بریگزٹ کے بعد اقتدار سنبھالنے والے چھٹے وزیراعظم بھی اپنی مدت مکمل نہ کر سکے۔
ماضی کا برطانیہ: جب وزرائے اعظم دہائیوں تک اقتدار میں رہتے تھے
بریگزٹ سے پہلے برطانوی سیاست نسبتاً مستحکم سمجھی جاتی تھی۔
مارگریٹ تھیچر نے 1979 سے 1990 تک تقریباً گیارہ سال حکومت کی اور جدید برطانوی سیاست پر گہرے اثرات چھوڑے۔
ان کے بعد جان میجر سات برس تک اقتدار میں رہے جبکہ ٹونی بلیئر نے 1997 سے 2007 تک مسلسل دس سال وزارت عظمیٰ سنبھالے رکھی۔
گورڈن براؤن نے تقریباً تین سال حکومت کی لیکن وہ اپنی آئینی مدت کے دوران انتخابی شکست کے نتیجے میں اقتدار سے محروم ہوئے، نہ کہ جماعتی بغاوت یا سیاسی بحران کے باعث۔
سیاسی مبصرین کے مطابق بریگزٹ صرف یورپی اتحاد سے علیحدگی کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس نے برطانیہ کے سیاسی نظام، جماعتی ڈھانچے اور عوامی توقعات کو بھی یکسر تبدیل کر دیا۔
اس فیصلے کے بعد ملک مسلسل سیاسی تقسیم، معاشی مباحث، جماعتی اختلافات اور قیادت کے بحرانوں کا شکار رہا۔ یہی وجہ ہے کہ 2016 کے بعد آنے والے چھ وزرائے اعظم میں سے کوئی بھی اپنی آئینی مدت پوری نہ کر سکا۔
کیا برطانیہ دوبارہ سیاسی استحکام حاصل کر سکے گا؟
کیئر اسٹارمر کے استعفے کے بعد برطانیہ ایک بار پھر نئی قیادت کے انتخاب کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ گزشتہ ایک دہائی کے تجربے نے ثابت کیا ہے کہ بریگزٹ کے اثرات آج بھی برطانوی سیاست پر غالب ہیں۔
اب دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا برطانیہ آنے والے برسوں میں سیاسی استحکام، معاشی بحالی اور مضبوط قیادت حاصل کر پائے گا یا بریگزٹ کے بعد شروع ہونے والا سیاسی بھنور مزید وزرائے اعظم کو بھی اپنی لپیٹ میں لیتا رہے گا۔