نئی دہلی دھماکے کے عینی شاہد دھرمیندر کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب وہ مخالف سمت سے گزر رہا تھا اور بم دھماکے کے حوالے سے گودی میڈیا کا پراپیگنڈہ بے نقاب کرتے ہوئے دھرمیندر نے واضح کیا گاڑی سوزوکی ماروتی تھی، مگر امیت شاہ اور گودی میڈیا اسے ہنڈائی قرار دے رہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق نئی دہلی دھماکے کے عینی شاہد دھرمیندر کے مطابق دھماکہ اس وقت ہوا جب وہ مخالف سمت سے گزر رہا تھا اور بم دھماکے کے حوالے سے گودی میڈیا کا پراپیگنڈہ بے نقاب کرتے ہوئے دھرمیندر نے واضح کیا گاڑی سوزوکی ماروتی تھی، مگر امیت شاہ اور گودی میڈیا اسے ہنڈائی قرار دے رہے ہیں۔
دھرمیندر نے نئی دلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گاڑی کے اندر چار جلی ہوئی لاشیں ملیں، باہر دو افراد ہلاک اور ایک زخمی دیکھا گیا۔
عینی شاہد کے مطابق گاڑی سفید رنگ کی ماروتی تھی، نمبر پلیٹ محمد ندیم، ہریانہ کی تھی۔ گواہ کا کہنا ہے گاڑی سوزوکی ماروتی تھی، مگر امیت شاہ اور گودی میڈیا اسے Hyundai قرار دے رہے ہیں۔ نئی دلی دھماکے کے گواہ کا کہنا ہے گاڑی کے مالک کا نام ندیم تھا، RAW ٹرول اسے سلمان بنا رہے ہیں، جبکہ گودی میڈیا اسے طارق بتا رہا ہے۔
عینی شاہد کے مطابق 4-5 افراد گاڑی میں ہی ہلاک ہوئے—کس قسم کا “دہشتگرد حملہ” ہے جہاں آدھی ہلاکتیں خود دہشگردوں کی ہوں؟ مودی سرکار ہمیشہ کی طرح حقیقت چھوڑ کر اپنی بنائی ہوئی فرضی کہانی ہی دہراتی رہے گی۔