وفاق کا وعدہ، ضم اضلاع کا انتظار، 300 سے زائد ترقیاتی منصوبے متاثر

وفاق کا وعدہ، ضم اضلاع کا انتظار، 300 سے زائد ترقیاتی منصوبے متاثر

خیبرپختونخوا کے ضم اضلاع کے لیے سالانہ 100 ارب روپے ایکسلیریٹڈ امپلی مینٹیشن پروگرام ( اے ائی پی ) کی مد میں دینے کے وعدے سے وفاقی حکومت نے یوٹرن لے لیا ہے۔

وفاق کا کہنا ہے کہ یہ 100 ارب روپے صرف وفاق نہیں بلکہ چاروں صوبائی حکومتیں بھی اپنے حصے سے فراہم کریں گی۔ فنڈز کی عدم فراہمی کے باعث ضم اضلاع میں جاری 300 سے زائد ترقیاتی منصوبے سست روی کا شکار ہیں۔

ضم اضلاع میں انضمام کے بعد مختلف محکموں اور ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت مجموعی طور پر 331 منصوبے جاری ہیں، جنہیں سالانہ ترقیاتی پروگرام میں بھی شامل کیا گیا ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل پر مجموعی لاگت 514 ارب 59 کروڑ 21 لاکھ روپے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، تاہم وفاقی حکومت کی جانب سے وعدہ کیے گئے فنڈز تاحال مکمل طور پر فراہم نہیں کیے گئے۔

خیبرپختونخوا کے مشیر خزانہ، مزمل اسلم نے آزاد ڈیجیٹل کو بتایا کہ وفاقی حکومت نے سات سال میں 700 ارب روپے دینے تھے، مگر اب تک صرف 168 ارب روپے ہی ملے ہیں۔ وفاق کا مؤقف ہے کہ یہ فنڈز صرف وفاق نے اپنے حصے سے نہیں دینے تھے بلکہ چاروں صوبوں کو بھی این ایف سی شیئر سے تین فیصد ترقیاتی فنڈز کے طور پر اپنا حصہ ڈالنا تھا۔

دستاویزات کے مطابق ضم اضلاع میں سب سے زیادہ 139 منصوبے سڑکوں کی تعمیر سے متعلق ہیں۔ دوسرے نمبر پر محکمہ صحت کے 22، پانی کے 21، ابتدائی و ثانوی تعلیم کے 19، انرجی اینڈ پاور کے 16، اور محکمہ داخلہ (جس میں پولیس کے بیشتر منصوبے شامل ہیں) کے 12 منصوبے ہیں۔

اس کے علاوہ محکمہ زراعت کے 8، اوقاف کے 3، ریونیو کے 3، فوڈ کے 2، جنگلات کے 8، ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کے 7، اعلیٰ تعلیم کے 7، ہاؤسنگ کا 1، انڈسٹریز کے 5، محکمہ اطلاعات کا 1، قانون و انصاف کے 3، لائیو اسٹاک کے 10، لوکل گورنمنٹ کا 1، ملٹی سیکٹرز کے 15، پاپولیشن ویلفیئر کا 1، ریلیف و آبادکاری کے 5، سائنس، ٹیکنالوجی و انفارمیشن ٹیکنالوجی کے 3، سوشل ویلفیئر کے 6، محکمہ کھیل کے 3، ٹرانسپورٹ کے 2، اور اربن ڈیولپمنٹ کے 11 منصوبے شامل ہیں۔

یاد رہے کہ جون 2018 میں سات قبائلی اضلاع اور چھ ایف آرز کا خیبرپختونخوا میں انضمام ہوا تھا، جبکہ 2022 میں وزیرستان کو دو اضلاع، شمالی اور جنوبی وزیرستان میں تقسیم کیا گیا۔

وفاقی حکومت نے گزشتہ سات سالوں کے دوران مجموعی طور پر 215 ارب 30 کروڑ روپے مختص کیے، جن میں سے صرف 168 ارب 10 کروڑ روپے جاری کیے گئے۔ اس کے برعکس صوبائی حکومت نے ضم اضلاع کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے ایکسلیریٹڈ امپلی مینٹیشن پروگرام ( اے ائی پی ) کے تحت 172 ارب 60 کروڑ روپے خرچ کیے ہیں۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *