امریکا میں اہم سکے ختم، ٹریژری نے تیاری بند کردی

امریکا میں اہم سکے ختم، ٹریژری نے تیاری بند کردی

امریکا نے 232 سال بعد ایک پینی (ایک سینٹ) کے سکے کی تیاری بند کر دی ہے، جس کے بعد ملک بھر میں نقدی لین دین کے نظام میں نمایاں تبدیلیاں متوقع ہیں۔

غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق امریکی محکمۂ خزانہ (یو ایس ٹریژری) نے پینی کی تیاری سرکاری طور پر بند کر دی ہے۔ یہ فیصلہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی منظوری کے بعد کیا گیا، جس کا مقصد پیداواری لاگت میں کمی لانا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایک پینی کا سکہ تیار کرنے پر اس کی مالیت سے کہیں زیادہ لاگت آتی تھی، اسی وجہ سے حکومت نے اسے ختم کرنے کا فیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان کی کارکردگی دنیا بھر کی ابھرتی ہوئی معیشتوں میں دوسرے نمبر پر رہی،امریکی جریدہ

ذرائع کے مطابق امریکی ٹریژری کے اس فیصلے کے بعد ملک بھر کے ریٹیلرز، پیٹرول پمپس اور فاسٹ فوڈ چینز گاہکوں کو ناراض کیے بغیر لین دین کو آسان بنانے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔

کئی بڑی کمپنیوں، جن میں والمارٹ، ٹارگٹ اور کروگر شامل ہیں، نے صارفین سے اپیل کی ہے کہ وہ درست تبدیلی کے ساتھ خریداری کریں یا ڈیجیٹل ادائیگی کے طریقے اپنائیں۔ ادھر صارفین کی ایک بڑی تعداد نے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ کچھ شہریوں کا کہنا ہے کہ پینی کا خاتمہ وقت کی ضرورت تھا، جبکہ دوسروں نے اسے امریکی کرنسی کی تاریخی علامت کے خاتمے کے طور پر دیکھا ہے۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ پینی کو ختم کرنے سے حکومت سالانہ کروڑوں ڈالر بچا سکے گی، کیونکہ اس کی تیاری میں تانبے اور زنک کی قیمت پچھلے کئی سالوں سے مسلسل بڑھ رہی تھی۔

مزید پڑھیں:ہمارے بغیر دنیا کی معیشت بیٹھ جائے گی ، امریکی صدر ٹرمپ کا دعویٰ

واضح رہے کہ ایک پینی کا سکہ 1793 میں پہلی بار متعارف کرایا گیا تھا اور تب سے یہ امریکی کرنسی کا سب سے چھوٹا یونٹ سمجھا جاتا تھا۔ اب امریکی شہریوں کو روزمرہ لین دین میں قریبی رقم کو اوپر یا نیچے گول کرنے کے اصول کے تحت خرید و فروخت کرنی ہوگی، جیسا کہ کینیڈا اور آسٹریلیا میں پہلے سے رائج ہے۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے رجحان کو مزید تیز کرے گا اور ممکنہ طور پر آئندہ برسوں میں امریکا مکمل طور پر ’کیش لیس اکانومی‘ کی سمت بڑھ سکتا ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *