حکومت موبائل فونز پر عائد بعض ٹیکسوں میں کمی کی تجویز پر غور کر رہی ہے

حکومت موبائل فونز پر عائد بعض ٹیکسوں میں کمی کی تجویز پر غور کر رہی ہے

 مالی سال 27-2026 کے وفاقی بجٹ کی آمد کے ساتھ ہی موبائل فون صارفین کی نظریں حکومت کے ممکنہ ٹیکس فیصلوں پر مرکوز ہیں،ذرائع کے مطابق حکومت موبائل فونز پر عائد بعض ٹیکسوں میں کمی کی تجویز پر غور کر رہی ہے، جس سے مہنگے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹس کے مطابق موجودہ نظام کے تحت موبائل فونز پر مختلف محصولات اور رجسٹریشن فیس کی وجہ سے درآمد شدہ اسمارٹ فونز، خصوصاً مہنگے ماڈلز، پاکستانی صارفین کے لیے انتہائی مہنگے ہو چکے ہیں۔

آئندہ بجٹ میں موبائل فون ٹیکس کی شرح کو 25 فیصد سے کم کرکے 18 فیصد کرنے کی تجویز زیر غور ہے، اگر یہ تجویز منظور ہو جاتی ہے تو 500 ڈالر سے زائد مالیت کے اسمارٹ فونز کی قیمتوں میں خاطر خواہ کمی آ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں :بجٹ میں موٹر سائیکل ،رکشے،سولرپینلز اورالیکٹرک گاڑیاں مہنگی ہونگی یا سستی؟

اس ممکنہ رعایت کا سب سے زیادہ فائدہ مہنگے موبائل فونز خریدنے والے صارفین کو ہوگا، خصوصاً آئی فون اور سام سنگ کے اعلیٰ درجے کے ماڈلز نسبتاً سستے ہو سکتے ہیں، کیونکہ ان پر اس وقت بھاری ٹیکس عائد ہے، ٹیکس میں کمی کی صورت میں ان فونز کی مجموعی لاگت کم ہوگی جس کا اثر براہ راست مارکیٹ قیمتوں پر پڑ سکتا ہے۔

دوسری جانب مقامی سطح پر موبائل فون تیار کرنے والی کمپنیاں درآمدی محصولات میں کمی کے حق میں نہیں ہیں، ان کا مؤقف ہے کہ اگر درآمد شدہ موبائل فونز سستے ہو گئے تو مقامی صنعت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور پاکستان میں تیار یا اسمبل ہونے والے فونز کی فروخت متاثر ہو سکتی ہے، اسی وجہ سے حکومت کو مقامی صنعت کے تحفظ اور صارفین کو ریلیف دینے کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔

پاکستان میں 50 ہزار روپے سے کم قیمت کے بہترین اسمارٹ فونز کون سے ہیں؟

فی الوقت ملنے والے اشارے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ پریمیم درآمدی فونز پر موجودہ بلند ٹیکس ڈھانچہ بڑی حد تک برقرار رہ سکتا ہے، تاہم اگر حکومت مجوزہ ٹیکس کمی کی منظوری دیتی ہے تو مہنگے اسمارٹ فونز کے خریداروں کے لیے یہ ایک بڑی خوشخبری ثابت ہو سکتی ہے۔

اگر ٹیکسوں میں کمی نہ کی گئی تو مہنگائی کے موجودہ دور میں فلیگ شپ موبائل فونز عام صارف کی پہنچ سے مزید دور ہو جائیں گے، جبکہ ٹیکس میں معمولی کمی بھی جدید اسمارٹ فونز کی خریداری کو نسبتاً آسان بنا سکتی ہے، اس لیے موبائل فون مارکیٹ اور صارفین دونوں کی نظریں اب آئندہ وفاقی بجٹ کے حتمی اعلانات پر مرکوز ہیں۔

editor

Related Articles