ضلع خیبر میں ڈرون حملے کے دعوے بے بنیاد ثابت، حقائق سامنے آگئے

ضلع خیبر میں ڈرون حملے کے دعوے بے بنیاد ثابت، حقائق سامنے آگئے

خیبر ایجنسی میں ڈرون حملے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش خبروں کی سیکیورٹی ذرائع نے سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیراہ میں کسی قسم کا ڈرون حملہ نہیں ہوا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف گروہوں کی جانب سے جاری کیے گئے بیانات اور سوشل میڈیا پوسٹس حقیقت سے مطابقت نہیں رکھتے۔

سیکیورٹی فورسز نے خیبر کے علاقے تیراہ میں ڈرون حملے کے دعووں کو مسترد کرتے کہا ہے کہ منشیات فروشوں کے گروہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کو ناکام بنا دیا گیا، جس کے نتیجے میں 7 اسمگلر ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔

ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مقامی شخص عبدالغنی آفریدی کی جانب سے ڈرون حملے اور ہلاکتوں سے متعلق دعوے مکمل طور پر جھوٹے ہیں، اور یہ دعوے مجرمانہ، دہشت گرد اور ڈرگ مافیا کے اشاروں پر کیے گئے۔

سیکیورٹی فورسز کے مطابق  بعض عناصر کی جانب سے شیئر کی گئیں وہ تصاویر جن میں شادی کے شرکاء دکھائے جا رہے ہیں، وہ مشتبہ ہیں کیونکہ حقیقت میں نوجوان لڑکوں کی تصاویر ہیں جو بظاہر ’’خوارج‘‘ جیسے دکھائی دیتے ہیں،اگر یہ واقعی شادی میں شریک افراد تھے تو خواتین، بچوں یا بزرگوں کی عدم موجودگی سوالات کھڑے کرتی ہے۔

حیات آباد میڈیکل کمپلیکس کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ سے منسوب زخمیوں کا اسکرین شاٹ بھی جعلی قرار دیا گیا ہے، اور جانچ پڑتال میں اس میں کسی قسم کی صداقت سامنے نہیں آئی حتی کہ ان زخمیوں کی نوعیت کسی ڈرون حملے سے آںیوالی چوٹوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ علاقے میں نہ کوئی ڈرون حملہ ہوا اور نہ ہی کسی ڈرون حملے کے نتیجے میں جانی نقصان ہوا۔

یہ تمام پروپیگنڈا مجرمانہ، دہشت گرد، ڈرگ اور سیاسی مافیا کے مفادات کے لیے سیکیورٹی فورسز کو بدنام کرنے کی غرض سے پھیلایا جا رہا ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *