وزارت منصوبہ بندی کے تازہ اعلانات نے ملک کی معاشی سمت کے حوالے سے نئی راہیں متعین کر دی ہیں، جس میں آنے والے برسوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری، ترقیاتی سرگرمیوں میں تیزی اور مجموعی اقتصادی بحالی کی امید ظاہر کی گئی ہے۔
حکومتی تخمینوں کے مطابق آئندہ 5 سے 7 سال کے دوران ملک بھر میں جاری بڑے منصوبوں کے نتیجے میں 95 ہزار سے زیادہ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
سرکاری دستاویزات کے مطابق سینٹرل ڈیویلپمنٹ ورکنگ پارٹی نے صرف اکتوبر 2025 میں 12 ترقیاتی منصوبوں کی منظوری دی، جن کا تعلق توانائی، پانی، زراعت، گورننس، صحت، تعلیم اور دیگر شعبوں سے ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ منصوبے نہ صرف مقامی معیشت کو تقویت دیں گے بلکہ معیاری انفراسٹرکچر کی تعمیر کے ذریعے طویل المدت قومی ترقی کے عمل کو بھی تیز کریں گے۔
وزارت منصوبہ بندی نے تصدیق کی ہے کہ 6 بڑے منصوبے حتمی منظوری کے لیے ایکنک کو بھجوا دیے گئے ہیں۔ ابتدائی تخمینے کے مطابق ان منصوبوں کے آغاز سے فوری طور پر 2501 نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی، جبکہ طویل المدت اثرات اس سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔
سرکاری اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام کے 1000 ارب روپے کے بجٹ میں سے پہلے 4 ماہ کے دوران 330 ارب روپے کی منظوری جاری کر دی گئی ہے۔ اکتوبر تک وزارت منصوبہ بندی 33 فیصد فنڈز جاری کر چکی تھی اور مختلف شعبوں میں 134 ارب روپے سے زیادہ سرمایہ کاری کی جا چکی تھی۔
اقتصادی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ فنڈز کے تیز اجرا اور منصوبوں کی بروقت منظوری سے حکومت کی یہ حکمت عملی سامنے آتی ہے کہ وہ معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ ان اقدامات سے نہ صرف روزگار کے مواقع بڑھیں گے بلکہ ملکی جی ڈی پی میں بھی مثبت اضافہ متوقع ہے۔
ترقیاتی منصوبوں میں بڑھتی ہوئی سرمایہ کاری کو ملک کی معاشی سمت میں بہتری کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بارے میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رفتار برقرار رہی تو آئندہ چند برسوں میں پاکستان میں کاروباری ماحول زیادہ مستحکم ہو سکتا ہے۔