پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے اعلان کیا ہے کہ غیر قانونی طور پر مقیم افغان اور دیگر غیر ملکی شہریوں کی معلومات دینے والوں کو نقد انعام دیا جائے گا۔
عظمیٰ بخاری نے ایک بیان میں کہا کہ پنجاب میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان اور غیر ملکی شہریوں کے خلاف آپریشن جاری ہے اور عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ غیر قانونی مقیم افغان شہریوں کی اطلاع دیں تاکہ انہیں فوری کارروائی کے ذریعے واپس بھیجا جا سکے۔
وزیر اطلاعات نے بتایا کہ گزشتہ تین ہفتوں کے دوران 6 ہزار 220 افغان شہریوں کو پاکستان سے واپس بھیجا جا چکا ہے۔
یاد رہے کہ 2001 میں طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین نے افغان مہاجرین کی واپسی کے لیے ایک رضاکارانہ پروگرام شروع کیا تھا۔ اس پروگرام کے تحت 2002 سے 2005 کے درمیان تقریباً 30 لاکھ افغان مہاجرین پاکستان سے واپس افغانستان گئے۔
بعد میں 2016 میں پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت افغان مہاجرین کی بڑے پیمانے پر واپسی کا اعلان کیا۔ اس کے نتیجے میں 3 لاکھ 70 ہزار افغان مہاجرین واپس افغانستان گئے جبکہ تقریباً 8 لاکھ افغان شہریوں کو پاکستان میں افغان سٹیزن کارڈ جاری کیے گئے۔
وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ حکومت اس حوالے سے پرعزم ہے کہ غیر قانونی مقیم افراد کی شناخت اور واپسی کے عمل کو مؤثر اور شفاف بنایا جائے تاکہ قانون کی بالادستی قائم رہے اور غیر قانونی افراد کی موجودگی پر قابو پایا جا سکے۔
یہ اقدام حکومت کی مہاجرین کے انتظام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اقدامات کے تسلسل کا حصہ ہے، جس کا مقصد غیر قانونی مقیم افغان اور دیگر غیر ملکی شہریوں کی شناخت اور واپسی کو مزید منظم بنانا ہے۔