دبئی ایئر شو کے دوران بھارتی فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ ہو گیا جس کی تصدیق بھارتی میڈیا نے بھی کر دی ہے حادثے میں تباہ ہونے والے طیارے کی قیمت چھ سو چالیس کروڑ بھارتی روپے تھی۔ بھارتی فضائیہ کا طیارہ گر کر تباہ ہونے کے بعد تیجس طیارہ بنانے والی کمپنی کے شیئر بھی گر گئے۔
غیر ملکی ذرائع کے مطابق یہ حادثہ ایئر شو میں بھارت کے لیے ایک اور سبکی ثابت ہوا اور اس نے عالمی سطح پر بھارتی فضائی قابلیت پر سوالات اٹھا د ئیےہیں۔
طیارے کے حادثے کے بعد دبئی ایئر شو عارضی طور پر معطل کردیا گیا ہے،بھارت نے فنی خرابی کے باوجود طیارے کو ایئر شو میں شامل کیا ۔
ایک بھارتی صحافی نے دعوی کیا ہے کہ یجس طیا رے کے حادثے میں ونگ کمانڈر وکرم سنگھ ہلاک ہوگئے ہیں، جس کی تصدیق بھارتی میڈیا نے کردی ہے ،دو ہزار اکیس میں بھی بھارتی تیجس طیارہ تربیتی پرواز کے دوران راجھستان میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق بتایا گیا ہے طیارے میں فنی خرابیاں تھیں ،تبجس پہلے ہی سوشل میڈیا پر مذاق بنا ہوا تھا ،یہ تبجس طیارے کا دوسرا حادثہ ہے ، طیارے گرتے ہی بھارت کا غرو ر بھی خاک میں مل گیا ۔
بھارت فضائی کرتب دکھانا الٹا پڑ گیا اور اس دوران جہاں میڈان انڈیا زمین بوس ہوگیا وہیں بھارت کا بھارت وکرم سنگھ کے بھی ہلاک ہونے کی اطلاعات ہیں ۔
بھارتی فضائیہ کے پائلٹ گروپ کیپٹن اہلاوت نے بھارتی ٹی وی چینل ری پبلک ٹی وی سے گفتگو میں اس واقعے کو بھارتی فضائیہ کی ساکھ کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا۔
گروپ کیپٹن اہلاوت نے کہا کہ “زیادہ پریشانی کی بات یہ نہیں کہ ہمارا تیجس گر گیا، اصل پریشانی کی بات یہ ہے کہ ہمارا تیجس بین الاقوامی شو میں سینکڑوں فضائی ماہرین کی موجودگی میں گرا، کیا بھارتی فضائیہ اپنی ساخت بچا پائے گی؟“
دوسری جانب بھارتی میڈیا نے دبئی ایئر شو میں تیجس طیارہ گرنے کی ذمہ داری پاکستانی سوشل میڈیا پر ڈال دی۔ بھارتی میڈیا کی رپورٹس میں کہا گیا کہ ہزاروں بین الاقوامی فضائی ماہرین کی موجودگی میں ناکارہ تیجس گر کر تباہ ہوا اور اس کے باوجود بھارتی میڈیا نے اس کا الزام پاکستان کے سوشل پلیٹ فارمز پر عائد کر دیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق طیارے میں تکنیکی خرابی موجود تھی، اس کے باوجود تیجس کو اُڑایا گیا۔ واقعے کے بعد طیارہ گرنے کے مقام پر سائرن بھی بجائے گئے۔
تیجس کے حادثے نے بھارتی دفاعی صنعت پر بھی براہِ راست اثر ڈالا اور رپورٹ کے مطابق ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (HAL) کے شیئرز میں دو اعشاریہ پانچ فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی۔