امریکی عدالت سے صدر ٹرمپ کو ایک اور جھٹکا مل گیا

امریکی عدالت سے صدر ٹرمپ کو ایک اور جھٹکا مل گیا

امریکا میں ایک فیڈرل جج نے امریکی صدر ٹرمپ کو دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں فوج تعینات کرنے سے عارضی طور پر روک دیا ہے۔

میڈیا رپورٹ  کے مطابق ڈسٹرکٹ جج جیا کوب نے فیصلے میں کہاہے کہ  امریکی صدر ٹرمپ نے مقامی حکام کے قانونی اختیارات یعنی میئر کی اتھارٹی کو نظر انداز کیا ہے لیکن یہ حکم فوری مؤثر نہیں۔

جج نے فیصلہ اکیس دن کے لیے موخر کیا ہے تاکہ انتظامیہ اپیل دائر کرسکے۔

یہ مقدمہ ڈی سی کے اٹارنی جنرل برایان شوالب نے دائرکیا تھا جس میں ان کا موقف ہے فوج کی تعیناتی شہر کی خودمختاری کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

مزید پڑھیں:امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن، سرکاری امور 36ویں روز بھی بند

جج نے کہا صدرکو وفاقی املاک کوتحفظ دینے کا اختیارہے لیکن وہ مقامی جرائم کنٹرول انفورسمنٹ کے کام میں یکطرفہ فوج استعمال نہیں کرسکتے۔

دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جیفری ایپسٹین کی مزید دستاویزات جاری کرنے کے بل پر دستخط کر دیے ہیں۔

صدر ٹرمپ دستخط کردہ قانون کے تحت محکمہ انصاف کو جنسی مجرم جیفری ایپسٹین سے متعلق طویل عرصے سے جاری تحقیقات کی دستاویزات جاری کرنے کا حکم دیا گیا ہے ، یہ ایک ایسا ریکارڈ ہے جس کا انتظار ٹرمپ کے سیاسی مخالفین اور خود ان کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد نے بے صبری سے کیا ہے اور وہ اس معاملے میں شفافیت کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : ٹرمپ کا کینیڈا کے ساتھ تمام تجارتی مذاکرات ختم کرنے کا اعلان

صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ یہ اقدام شفافیت کی عکاسی کرتا ہے، اب ڈیموکریٹس کی جیفری ایپسٹین کے ساتھ وابستگیوں کی حقیقت جلد سامنے آ جائے گی ، اس بل پر دستخط کے بعد محکمہ انصاف ایپسٹین کی 20 ہزار سے زیادہ دستاویزات جاری کرے گا۔

editor

Related Articles