وزیراعظم شہباز شریف کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ اگرعدالتوں کی جانب سے حکم جاری ہوا تو عمران خان کو فوری طور پر ہسپتال منتقل کر دیا جائے گا، انہوں نے واضح کیا کہ حکومت عدالتی فیصلوں کی پابند ہے اور جو بھی قانونی تقاضے ہوں گے، انہیں پورا کیا جائے گا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہیں دل کا عارضہ لاحق تھا، مستند معالجین نے معائنہ کیا۔
عدالت نے بیرون ملک علاج کی اجازت دی،حکومت نے تمام شرائط پوری کیں اور وہ علاج کی غرض سے روانہ ہوئے، ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح اگر عدالت بانی پی ٹی آئی سے متعلق کوئی ہدایت جاری کرتی ہے تو اس پر بھی عمل درآمد کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ملاقاتوں پر پابندی عائد کی گئی تو بعض حلقوں کی جانب سے افواہیں پھیلائی گئیں کہ بانی پی ٹی آئی کو کوئی سنگین مسئلہ درپیش ہے۔
حالانکہ ایسا کچھ نہیں تھا، انہوں نے کہا کہ حکومت نے بانی پی ٹی آئی کی ان کی بہن سے ملاقات بھی کرائی، خاندان یا جماعت کا اطمینان اپنی جگہ، مگر قانون اپنے تقاضوں کے مطابق چلتا ہے۔
رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پانچ معالجین پر مشتمل بورڈ نے دو مرتبہ بانی پی ٹی آئی کا طبی معائنہ کیا اور اس کا مکمل ریکارڈ موجود ہے اگر اس کے باوجود متعلقہ افراد مطمئن نہیں تو انہیں اعلیٰ عدالت سے رجوع کرنا چاہیے۔
دوسری جانب قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی رہنما شاہد خٹک نے کہا کہ علیمہ خان کے بیانات ایک بہن کی حیثیت سے تشویش کا اظہار تھے۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی کو ہسپتال منتقل کیا جائے اور ان کا معائنہ ان کے ذاتی معالج کی موجودگی میں کیا جائے،صحت کا معاملہ نہایت سنجیدہ ہے اور کسی بھی ناخوشگوار صورت حال کی ذمہ داری کا تعین ضروری ہوگا۔
انہوں نے یہ بھی سوال اٹھایا کہ اگر علاج میں کوئی قباحت نہیں تو ذاتی معالج کو ملاقات کی اجازت کیوں نہیں دی جا رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ شفافیت کے لیے کم از کم خاندان کے ایک فرد کو معائنے کے وقت موجود ہونا چاہیے تاکہ تمام شکوک و شبہات دور ہو سکیں۔