ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا مذاکراتی عمل کے بعد ملک واپس پہنچنے پر پہلا بڑا بیان سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے امریکہ کے ساتھ معاہدہ نہ ہونے کی بڑی وجہ واضح کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اسلام آباد مذاکرات مفاہمتی یادداشت کے قریب پہنچ چکے تھے، تاہم بعض پیچیدگیوں اور شرائط کے باعث حتمی معاہدہ ممکن نہ ہو سکا۔
عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ کے ساتھ نیک نیتی سے بات چیت کی گئی، اور گزشتہ 47 برس میں پہلی بار اعلیٰ ترین سطح پر مذاکرات ہوئے۔ ان کے مطابق مذاکرات کے دوران فریقین مفاہمتی یادداشت سے چند قدم کے فاصلے پر تھے، لیکن حد سے زیادہ شرائط اور مسلسل بدلتے ہوئے مؤقف نے معاہدے کو ناکام بنا دیا۔
ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اس عمل سے یہ سبق ملتا ہے کہ نیک نیتی سے نیک نیتی جنم لیتی ہے، جبکہ دشمنی اور سخت رویہ مزید کشیدگی کو جنم دیتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی سوشل میڈیا پر بیان دیتے ہوئے امریکہ پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سخت گیر پالیسی ترک کرے۔ انہوں نے کہا کہ اگر امریکی حکومت ایرانی قوم کے حقوق کا احترام کرے تو معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ایرانی صدر نے مذاکراتی ٹیم بالخصوص ڈاکٹر قالیباف کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے کی کوشش کی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب خطے میں سفارتی کوششیں جاری ہیں، اور ایران و امریکہ تعلقات ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔