ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے

ٹرمپ کا آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا اعلان، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مندی، سرمایہ کاروں کے اربوں روپے ڈوب گئے

پاکستان اسٹاک ایکسچینج (پی ایس ایکس) کا بینچ مارک  کے ایس ای-100 انڈیکس آج پیر کو ایک انتہائی ہنگامہ خیز سیشن کے دوران انٹرا ڈے ٹریڈنگ میں 3,500 سے زیادہ پوائنٹس گر گیا۔ مارکیٹ میں اس زبردست کریش کی بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کا اچانک اور سخت حکم تھا۔

کے ایس ای-100 انڈیکس سیشن کے آغاز میں ہی شدید دباؤ کا شکار ہوا اور ایک وقت میں 5,000 سے زیادہ پوائنٹس گر گیا، جو صبح تقریباً 9:50 بجے 161,638.07 کی انٹرا ڈے کم ترین سطح پر پہنچ گیا، جبکہ اس کا پچھلا اختتام 167,191.37 پر تھا۔

یہ بھی پڑھیں:پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بڑی گراوٹ، عالمی تناؤ کے اثرات

شدید گراوٹ کے بعد مارکیٹ نے کچھ بحالی کی کوشش کی اور انڈیکس 162,000 کی رکاوٹ کے گرد گھومتا رہا اور پھر صبح تقریباً 11 بجے 163,000 کو دوبارہ عبور کر گیا، جس نے 163,429.78 کی انٹرا ڈے بلند ترین سطح کو چھوا۔ تاہم، سیکیورٹی کی نازک صورتحال اور غیر یقینی مستقبل کی وجہ سے سرمایہ کاروں میں خوف و ہراس برقرار رہا۔

دریں اثنا ایران کے ساحل سے دور ایک اہم بحری راستہ، آبنائے ہرمز، تہران کی جانب سے تقریباً بند کر دیا گیا ہے، حالانکہ اس آبنائے کو دوبارہ کھولنا اس ہفتے کے اوائل میں نافذ العمل سیز فائر کی بظاہر ایک شرط تھی۔

مزید پڑھیں:سرمایہ کاروں کی چاندی: 2098 پوائنٹس کے بڑے اضافے کے ساتھ پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ریکارڈ توڑ کاروبار

دوسری جانب ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور نے سخت لہجے میں کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے قریب آنے والے کسی بھی فوجی بحری جہاز کو امریکہ کے ساتھ دو ہفتے کے جنگ بندی کی خلاف ورزی سمجھا جائے گا، اور خبردار کیا کہ اس سے سختی اور فیصلہ کن انداز میں نمٹا جائے گا۔ خطے میں بڑھتی ہوئی اس کشیدگی نے پاکستانی مارکیٹ پر بھی گہرے منفی اثرات مرتب کیے ہیں۔

Related Articles