پاک بھارت ہائی وولٹیج ٹاکرا ، ٹیم کا ٹرمپ کارڈ کون؟ سلمان علی آغا نے بتا دیا

پاک بھارت ہائی وولٹیج ٹاکرا ، ٹیم کا ٹرمپ کارڈ کون؟ سلمان علی آغا نے بتا دیا

پاکستانی کرکٹ ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے کہا ہے کہ کل  ایک بڑے لیول کا میچ ہو گا، ہم تیار ہیں اور اچھی کرکٹ کھیلیں گے ۔

کولمبو میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان نے میچ سے قبل پریس کانفرنس میں کہا ہے کہ ہمارے لیے  سب پلیئر ایک جیسے ہیں، صورتِ حال کیسی ہی کیوں نہ ہو ہم ہر طرح سے تیار ہو کر یہاں آئے ہیں،  ماضی میں کیا ہوا یہ اہمیت نہیں رکھتا، ہم ماضی کو بدل تو نہیں سکتے لیکن اس بار اچھا کھیل کر جیت ضرور سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عثمان طارق ہمارے لیے ٹرمپ کارڈ ہیں، اب یہ ان پر منحصر ہے کہ وہ کیا کرتے ہیں، عثمان طارق کے بولنگ ایکشن سے متعلق بات چلتی رہی ہے، عثمان طارق 2 مرتبہ کلئیر ہو چکے ہیں ، پتہ نہیں ان کے ایکشن پر بات کیوں ہو رہی ہے لیکن ان سب باتوں کا عثمان طارق پر کوئی اثر نہیں پڑتا، ہم کسی کی رائے کو روک نہیں سکتے، سب کو اجازت ہے۔

سلمان علی آغا نے کہا کہ ان کے لیے تمام کھلاڑی ایک برابر ہیں اور ٹیم کل کے بڑے مقابلے کے لیے تیار ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹی 20 ورلڈکپ : پاک بھارت میچ سے قبل بابر اعظم کا اہم بیان سامنے آگیا

انہوں نے کھلاڑیوں کے حوصلے بلند کرتے ہوئے کہا کہ کل ایک بڑے لیول کا میچ ہوگا اور ٹیم میدان میں بہترین کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہے۔

پاکستانی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ بارش کا کچھ نہیں کر سکتے اگر اوور کم ہوتے ہیں تو اس کا بھی پلان کیا ہے، امید ہے کہ ابھیشک کی ری کوری اچھی ہو رہی ہو گی اور وہ اپنی ٹیم کو دستیاب ہوں گے،  کنڈیشنز کو دیکھ کر ہی اپنی پلینگ الیون بنائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بابر اعظم رنز کر رہے ہیں، ہمارے لیے پریشانی کی بات نہیں، امید ہے بابر اعظم کل بھی رنز کرینگے، میرے لیے تمام 15 کھلاڑی اہم ہیں ،کوئی بھی کھیل سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : ٹی 20 ورلڈ کپ کے ہائی وولٹیج ٹاکرے کی تیاریاں، شاہینوں کا بھرپور ٹریننگ سیشن

سلمان علی آغا نے یہ بھی کہا ہے کہ بھارت کے خلاف ہمارا ورلڈ کپ میں ریکارڈ اچھا نہیں رہا، ہم نے تاریخ سے سیکھا ہے، کوشش ہو گی کہ کل اچھا کھیلیں، ہم تیار ہیں، ہمیں اچھی کرکٹ کھیلنا ہے۔

واضح رہے کہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں کل پاک بھارت میچ کولمبو میں شیڈول ہے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *