انتہاپسند مودی کے دورمیں مسلمانوں کیساتھ ظلم و ستم اور توہین آمیز رویہ ہندوتوا کااصل چہرہ عالمی سطح پر آشکارہوگیا۔
راجستھان میں متعصب بی جے پی رہنما نے کئی خواتین کو مسلمان ہونے کی پاداش میں امدادی سامان دینے سے انکار کردیا، سکھبیر سنگھ جوناپوریا نے مسلمان خواتین کو امدادی پروگرام سے الگ کرتے ہوئے کہا کہ اگر مسلم خواتین کومیرےاس عمل سےبرا لگا تب بھی مجھےکوئی فرق نہیں پڑتا۔
یہ بھی پڑھیں :ہندوتوا کے انتہاپسند نظریہ پر کاربند مودی حکومت کیخلاف بھارت میں آوازیں اٹھنے لگیں
ہندوستان ٹائمز کے مطابق جونا پوریا نے کہا کہ جو لوگ مودی کو گالی نکالتے ہیں انہیں سامان (کمبل) لینے کا کوئی حق نہیں ، متاثرہ مسلمان خواتین کا ہندوستان ٹائمز سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب جوناپوریا کومعلوم ہوا کہ ہم مسلمان ہیں تو اس نے اشتعال میں آکر امدادی سامان واپس کرنے کاکہا ۔
یہ بھی پڑھیں : نااہل مودی سرکار کی عوام میں خوف پھیلا کر بحران چھپانے کی سازش عالمی جرائد نے بے نقاب کردی
ماہرین کے مطابق بھارت میں اقلیتوں خصوصاً مسلمانوں کیخلاف بڑھتا تشدد اور تعصب دراصل انتہاپسندہندو راشٹرا کااصل چہرہ ہے ، جوناپوریا کا یہ طرزعمل انتہا پسند بی جے پی کی مسلمانوں کیخلاف نفرت انگیز سوچ کا عکاس ہے۔
🚨🚨انتہاپسند ہندوتوا کےزیراثر بھارت میں مسلمانوں کیخلاف نفرت عروج پر۔۔انتہاپسندمودی کے دورمیں مسلمانوں کیساتھ ظلم و ستم اور توہین آمیز رویہ ہندوتوا کااصل چہرہ عالمی سطح پر آشکار۔۔بھارتی جریدہ ” ہندوستان ٹائمز” نےبھارت میں مسلمانوں کیخلاف پنپتی نفرت کو بے نقاب کردی pic.twitter.com/gccBIv1iNw
— Azaad Urdu (@azaad_urdu) February 25, 2026

