معروف صحافی اور تجزیہ کار رضوان رضی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس وقت عالمی ذرائع ابلاغ میں ایک اہم خبر گردش کر رہی ہے جس کے مطابق ایران اور امریکا کے درمیان ممکنہ امن معاہدے کا ایک جامع فارمولا فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ٹیبل پر پڑا ہے یہ فارمولا نہ صرف قابلِ عمل دکھائی دیتا ہے بلکہ خطے میں دیرپا امن کے قیام کی بنیاد بھی بن سکتا ہے۔
رضوان رضی کا کہنا تھا کہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کی مشترکہ اور مربوط سفارتی کوششیں اب واضح نتائج دینا شروع ہو گئی ہیں،انہوں نے کہا کہ پاکستان نے ایک بار پھر ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرتے ہوئے نہایت خاموشی، سنجیدگی اور حکمت عملی کے ساتھ ایک پیچیدہ بین الاقوامی تنازع میں مثبت پیش رفت کی راہ ہموار کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس ممکنہ امن فارمولے میں ابتدائی جنگ بندی، اعتماد سازی کے اقدامات اور بعد ازاں ایک جامع معاہدے کی تشکیل جیسے اہم نکات شامل ہو سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران اور امریکا اس پیش رفت کو سنجیدگی سے لیتے ہیں تو نہ صرف دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں نمایاں کمی آ سکتی ہے بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے خطے میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کی جانب سے اس نازک معاملے پر مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ایک خوش آئند پیش رفت ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ملک اپنی خارجہ پالیسی میں امن، استحکام اور علاقائی ہم آہنگی کو اولین ترجیح دے رہا ہے۔
رضوان رضی کے کا مزید کہنا تھا کہ اس سفارتی پیش رفت کے مزید مثبت اثرات سامنے آنے کی توقع ہے، اور اگر یہ کوششیں کامیاب رہیں تو پاکستان عالمی سطح پر ایک مؤثر ثالث کے طور پر اپنی حیثیت مزید مستحکم کر سکتا ہے۔