کیا پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ہے؟  اٹک کی مٹی سونا اگلنے لگی، رواں ماہ ذخائر کی بین الاقوامی نیلامی، نیسپاک سے رپورٹ طلب

کیا پاکستان کی تقدیر بدلنے والی ہے؟  اٹک کی مٹی سونا اگلنے لگی، رواں ماہ ذخائر کی بین الاقوامی نیلامی، نیسپاک سے رپورٹ طلب

پنجاب کے ضلع اٹک میں سونے کے ذخائر کے معاملے میں ایک بڑی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس سے ملکی معیشت میں اربوں روپے کے اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔

پنجاب حکومت نے معروف مشاورتی ادارے ’نیسپاک‘ کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ اٹک میں دریافت ہونے والے سونے کے ذخائر کے حوالے سے اپنی حتمی اور فائنل رپورٹ 30 اپریل 2026 تک پیش کرے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق ابتدائی تحقیقات اور نمونہ جات کی بنیاد پر ان علاقوں میں سونے کے ذخائر کی موجودگی کی تصدیق ہوچکی ہے، تاہم اب حتمی رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے تاکہ کان کنی اور نکالنے کے عمل کے لیے اگلا مرحلہ شروع کیا جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں:تربیلا ڈیم کی مٹی میں اربوں ڈالر مالیت کے سونے کے ذخائر کا انکشاف

میڈیا رپورٹ کے مطابق اٹک سمیت مختلف مقامات پر موجود سونے کی مقدار عالمی مارکیٹ میں کئی 100 ارب روپے کے مساوی ہو سکتی ہے، جو نہ صرف ملکی معیشت کو سہارا دے گی بلکہ بین الاقوامی سرمایہ کاری کے لیے بھی نئے دروازے کھولے گی۔

نیسپاک کی حتمی رپورٹ موصول ہونے کے بعد رواں ماہ ہی ان ذخائر کی بین الاقوامی سطح پر نیلامی  بھی متوقع ہے، جس کے ذریعے شفاف طریقے سے سرمایہ کاری کے اقدامات کیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ اٹک کے علاوہ میانوالی اور دریائے ستلج کے قریبی علاقوں میں بھی سونے کے ذخائر کی موجودگی کے شواہد ملے ہیں، جس سے پنجاب کے اس خطے میں معدنی وسائل کے حوالے سے امکانات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر ان وسائل کو پیشہ ورانہ انداز میں استعمال کیا گیا تو یہ پاکستان کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں (بشمول اٹک کے قریبی علاقوں) کی ریت سے سونا نکالنے کا کام مقامی سطح پر صدیوں سے جاری ہے، لیکن حکومتی سطح پر بڑے پیمانے پر ذخائر کی تلاش اور نیلامی کا یہ پہلا بڑا قدم ہے۔

مزید پڑھیں:محکمہ معدنیات نے اربوں ڈالرز کے سونے کے ذخائر ملنے کی تصدیق کر دی

پنجاب حکومت کی جانب سے میانوالی اور ستلج تک سروے کا دائرہ بڑھانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ صوبہ اپنی معدنی دولت کو معاشی استحکام کے لیے استعمال کرنے کی سنجیدہ کوششیں کر رہا ہے۔ 7 اپریل 2026 کی یہ پیش رفت پاکستان کے لیے ایک مثبت معاشی اشارہ ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *