بھارت کھیلوں میں دھوکہ دہی اور بددیانتی سے متعلق کیسز میں دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ گیا ہے، جبکہ ڈوپنگ قوانین کی بار بار خلاف ورزیوں کے باعث مسلسل تیسرے سال بھی اس نے اس فہرست میں اپنی پہلی پوزیشن برقرار رکھی ہے۔
تفصیلات کے مطابق عالمی ادارہ انسدادِ ڈوپنگ کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ بھارت میں کھیلوں کے دوران کارکردگی بہتر بنانے کے لیے ممنوعہ ادویات اور سٹیرائڈز کے استعمال کے مثبت کیسز کی شرح دیگر ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ڈوپنگ کے بڑھتے ہوئے رجحان نے نہ صرف بھارتی کھیلوں کے نظام پر سوالات اٹھا دیے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اسپورٹس کی شفافیت اور دیانت داری کے حوالے سے تشویش پیدا کر دی ہے۔ مسلسل تیسرے سال بھارت کا اس فہرست میں سرفہرست رہنا صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔
عالمی ادارے کے مطابق ممنوعہ ادویات کے استعمال کے بڑھتے ہوئے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارت میں کھیلوں کے اندر نگرانی اور ضابطہ جاتی نظام کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ کھلاڑیوں کو منصفانہ مقابلے کے مواقع فراہم کیے جا سکیں۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کھیلوں میں شفافیت اور میرٹ کو برقرار رکھنے کے لیے عالمی سطح پر انسدادِ ڈوپنگ قوانین پر سختی سے عملدرآمد ناگزیر ہے، بصورت دیگر اسپورٹس کے بنیادی اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔
مسلسل تیسرے سال اس فہرست میں بھارت کا پہلے نمبر پر آنا کھیلوں کے انتظامی ڈھانچے کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے اور اس پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے۔