‘بھارت دنیا کی سب سے بڑی اسلاموفوبک ریاست بن گیا ہے’ پاکستان کا دوٹوک موقف

‘بھارت دنیا کی سب سے بڑی اسلاموفوبک ریاست بن گیا ہے’ پاکستان کا دوٹوک موقف

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے کہا ہے کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی اسلاموفوبک ریاست کے طور پر منفرد مقام رکھتا ہے، جو اپنی ہی اقلیتوں بشمول مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر کے خلاف ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلامو فوبیا کے خلاف او آئی سی کور گروپ کے چیئرمین کی حیثیت سے اور اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کے طور پر، سفیر عاصم افتخار احمد نے آج عالمی دن برائے انسداد اسلاموفوبیا کے موقع پر منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے اختتامی سیشن میں کہا کہ اگرچہ ان کا ارادہ کسی مخصوص ملک کا حوالہ دینا نہیں تھا۔

، تاہم بھارت کی او آئی سی، اس کے فیصلوں اور ترجیحات کے حوالے سے کھلی بے ادبی نہ صرف تکبر کی عکاسی کرتی ہے بلکہ ایک بدنیت اور پیچیدہ ذہنیت کو بھی ظاہر کرتی ہے۔

پاکستان نے مزید کہا کہ بھارت کو دیگر ممالک سے ممتاز کرنے والی بات یہ ہے کہ وہاں اسلاموفوبیا کسی حاشیے پر موجود عناصر کی کارروائی نہیں بلکہ بھارتی ریاست اور حکومت کی براہِ راست سرپرستی میں فروغ اور حوصلہ افزائی پا رہی ہے۔

اس اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد اقوامِ متحدہ کی اتحادِ تمدن (UN Alliance of Civilizations) اور او آئی سی کے مبصر مشن برائے اقوامِ متحدہ نے کیا تھا۔ اس موقع پر جن افراد نے خطاب کیا ان میں اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرش، جنرل اسمبلی کی صدر محترمہ اینالینا بائر بوک، اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کے خصوصی ایلچی محترم موراتینوس، او آئی سی کے سیکریٹری جنرل حسین ابراہیم طہ، او آئی سی کے چیئرمین اور ترکی کے اقوامِ متحدہ میں مستقل مندوب سفیر احمد یلڈز اور دیگر رکن ممالک کے معزز نمائندے شامل تھے۔

سفیر عاصم افتخار احمد نے او آئی سی کی سترہویں رپورٹ برائے اسلاموفوبیا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بھارت عالمی سطح پر دستاویزی اسلاموفوبیا کے واقعات میں سب سے زیادہ حصہ رکھتا ہے۔ انہوں نے رمضان کے مقدس مہینے میں سری نگر میں جمعہ کی نماز پر عائد پابندی، مسلمانوں کے خلاف ہجوم کے ہاتھوں تشدد اور تاریخی مساجد کی منظم تباہی کی مثالیں پیش کیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت نے اسلاموفوبیا کی مذمت کے لیے عالمی برادری کے ساتھ شامل ہونے کا موقع ضائع کیا اور بجائے اس کے بحث کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش کی، جو عالمی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہے اور اسلاموفوبیا کے متاثرین کے ساتھ ناانصافی ہے۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اسلاموفوبک بیانیے اور واقعات سے خود کو الگ کرے، مرتکب افراد کو جواب دہ بنائے اور مسلمانوں اور دیگر مذہبی اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی پیش رفت کا اندازہ بین الاقوامی فورمز میں دیے گئے بیانات سے نہیں بلکہ واضح عملی اقدامات سے لگایا جانا چاہیے۔

سفیر عاصم نے دن کی سنگینی کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ کسی بھی فرد کو اس کے مذہب کی بنیاد پر خوفزدہ، امتیازی سلوک، محروم یا اذیت زدہ نہیں ہونا چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ یہ دن 15 مارچ 2019 کو کرائسٹ چرچ میں ہونے والے مسجد حملے کی یاد دہانی بھی ہے، جس میں 51 بے گناہ نمازیوں کو مذہبی نفرت کے مظالم کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

مزید پڑھیں: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا بھرپور حمایت پر اردو زبان میں حکومتِ پاکستان اور عوام سے اظہار تشکر

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *