پاک بحریہ نے ملک کے دفاع کو مزید مستحکم بناتے ہوئے اینٹی شپ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق میزائل نے سمندر میں اپنے ہدف کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنایا، جو پاک بحریہ کی آپریشنل تیاریوں اور بہترین پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
اس اہم دفاعی سنگِ میل پر صدرِ پاکستان اور وزیراعظم نے پاک بحریہ کے تمام متعلقہ یونٹس اور سائنسدانوں کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کامیاب تجربے سے پاکستان کی دفاعی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور یہ ملک کی سمندری حدود کے تحفظ کے لیے پاک بحریہ کے عزم کا عکاس ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق، تجربے کے دوران تمام تکنیکی پیرامیٹرز کو کامیابی سے حاصل کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے لیس یہ اینٹی شپ میزائل سسٹم دشمن کے کسی بھی بحری خطرے کا جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ تجربہ سمندر میں مؤثر دفاعی صلاحیت برقرار رکھنے کے عزم کا مظہر ہے، افواج پاکستان علاقائی سمندری سیکیورٹی اور استحکام یقینی بنانے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گی، یہ مقامی ساختہ اینٹی شپ میزائل ہے جس نے طویل فاصلے پر ہدف کو انتہائی درستی اور برق رفتاری سے نشانہ بنایا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق چیف آف نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف نے میزائل تجربہ کا مشاہدہ کیا، سائنسدانوں اور انجینیئرز کی ٹیم بھی تجربے کے دوران موقع پر موجود تھی۔
16 اپریل 2026 کو ہونے والا یہ کامیاب تجربہ خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے اور سمندری سلامتی کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
پاکستان اپنی سمندری حدود اور سی پیک سے وابستہ بحری تجارتی راستوں کے تحفظ کے لیے اپنی بحری طاقت کو مسلسل جدید خطوط پر استوار کر رہا ہے۔
حالیہ برسوں میں خطے کی جیو پولیٹیکل صورتحال اور مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں پاک بحریہ کی جانب سے اینٹی شپ میزائل کا یہ تجربہ اسٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے۔
یہ تجربہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی دفاعی ضروریات کے لیے مقامی طور پر تیار کردہ اور جدید ٹیکنالوجی پر مبنی سسٹمز پر تیزی سے انحصار بڑھا رہا ہے۔