خیبر پختونخوا کے ضلع مردان کے علاقے رستم میں پیش آنے والے ماربل کان حادثے میں ایک حیران کن پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں لینڈ سلائیڈنگ کے 16 دن بعد ایک لاپتہ مزدور کو ملبے تلے سے زندہ نکال لیا گیا، اس واقعے نے نہ صرف متاثرہ خاندان بلکہ پورے علاقے کو حیرت اور خوشی میں مبتلا کر دیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق یہ افسوسناک حادثہ 31 مارچ کو اس وقت پیش آیا تھا جب ماربل کی کان میں دھماکے کے نتیجے میں شدید لینڈ سلائیڈنگ ہوئی، جس کے باعث متعدد مزدور ملبے تلے دب گئے تھے، واقعے کے فوراً بعد ریسکیو 1122 کی ٹیموں نے امدادی کارروائیاں شروع کر دی تھیں، جو مسلسل کئی دنوں تک جاری رہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس حادثے میں اب تک مجموعی طور پر 11 مزدوروں کو ملبے سے نکالا جا چکا ہے، جن میں سے 9 جاں بحق ہو گئے جبکہ 2 مزدوروں کو شدید زخمی حالت میں پشاور منتقل کیا گیا تھا، ضلع مہمند سے تعلق رکھنے والا مزدور عبدالوہاب اس حادثے کے بعد سے لاپتہ تھا اور ریسکیو ٹیمیں مسلسل اس کی تلاش میں مصروف تھیں۔
آج امدادی کارروائی کے دوران جب ریسکیو اہلکاروں نے ملبے کے نیچے سے عبدالوہاب کو زندہ برآمد کیا تو موقع پر موجود افراد یہ منظر دیکھ کر دنگ رہ گئے، 16 دن تک ملبے تلے زندہ رہنا ایک غیر معمولی واقعہ قرار دیا جا رہا ہے، جسے عوامی حلقوں نے قدرت کا معجزہ قرار دیا۔
عبدالوہاب کے زندہ ملنے کی خبر سنتے ہی اس کے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی، اہلِ خانہ جذباتی مناظر میں اللہ کا شکر ادا کرتے رہےدوسری جانب عوام نے ریسکیو ٹیموں کی انتھک محنت، لگن اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو بھرپور خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
یہ واقعہ نہ صرف انسانی حوصلے اور امید کی ایک روشن مثال ہے بلکہ ریسکیو اداروں کی مسلسل جدوجہد اور عزم کو بھی اجاگر کرتا ہے، جنہوں نے ناممکن کو ممکن بنا دکھایا۔