آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے بحری جہازوں کی ایران کو بھاری ادائیگیاں، فنانشل ٹائمز کا انکشاف

آبنائے ہرمز سے گزرنے کے لیے بحری جہازوں کی ایران کو بھاری ادائیگیاں، فنانشل ٹائمز کا انکشاف

برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز نے ایک تہلکہ خیز رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کے محفوظ گزرنے کے لیے 20 لاکھ ڈالر کی ادائیگی وصول کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، جہاں جنگ سے قبل اس اہم آبی راستے سے روزانہ تقریباً 135 جہاز گزرتے تھے، وہیں حالیہ بحران کے باعث یہ آمد و رفت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور مارچ کے پہلے پچیس دنوں میں صرف 116 جہاز یہاں سے گزرنے میں کامیاب ہو سکے ہیں۔

اس صورتحال میں جو جہاز آبنائے ہرمز کو پار کرنے میں کامیاب ہوئے، ان کے حوالے سے یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ انہوں نے ‘محفوظ راستہ’ حاصل کرنے کے لیے ایران کو فی جہاز 20 لاکھ ڈالر تک کی خطیر رقم بطور فیس ادا کی۔

ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علاالدین بروجردی نے بھی اس حقیقت کی تصدیق کی ہے کہ اس اسٹریٹجک گزرگاہ سے گزرنے والا ہر جہاز یہ فیس ادا کر رہا ہے۔ منظوری کا یہ عمل متعلقہ ممالک کے سفارت خانوں کے ذریعے حکومت سے حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات پر مشتمل ہوتا ہے، جس کے بعد جہاز کو ایک مخصوص ‘کوڈ’ جاری کیا جاتا ہے۔

یہ کوڈ آبنائے ہرمز کے قریب پہنچ کر بین الاقوامی ہنگامی ریڈیو فریکوئنسی VHF 16 پر نشر کیا جاتا ہے، جس کے بعد ایرانی حکام کاغذات اور عملے کی قومیت کی جانچ پڑتال کے بعد جہاز کو اپنی سمندری حدود سے گزرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

رپورٹ میں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ بہت سی بین الاقوامی شپنگ کمپنیاں اپنی اصل رجسٹریشن تبدیل کر کے پاکستانی پرچم کے تحت سفر کر رہی ہیں تاکہ کسی بھی قسم کے حملے یا قبضے سے بچا جا سکے۔

سفارتی ذرائع اسے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے ایک ‘خیر سگالی پیغام’ کے طور پر بھی دیکھ رہے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، اس عرصے میں گزرنے والے جہازوں کا رخ امریکہ یا یورپ کے بجائے زیادہ تر مشرقی ایشیا، افریقہ اور جنوبی امریکہ کی جانب تھا۔

اگرچہ امریکی محکمہ خزانہ کے سابق حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے ان ادائیگیوں کے لیے خفیہ نیٹ ورکس قائم کر رکھے ہیں، تاہم بھارت کی وزارتِ خارجہ اور یورپی کمپنیوں نے باضابطہ طور پر ایسے کسی بھی ادائیگی کے نظام سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔

دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ایران کو انتباہ جاری کیا ہے کہ حالات مزید بگڑنے سے پہلے اسے مذاکرات کے معاملے میں سنجیدہ ہونا پڑے گا کیونکہ ڈیل کا وقت تیزی سے نکل رہا ہے۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کے وزیر اعظم شہباز شریف سے متعلق تازہ ریمارکس،نیا کیا کہہ دیا؟

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *