پینٹاگون میں چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے ایران کو خبردار کیا کہ امریکہ ان پر نظر رکھے ہوئے ہے اور ایرانیوں کو یہ جاننا چاہیے کہ دونوں ممالک کی فوجی صلاحیتوں کا کوئی مقابلہ نہیں ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے مزید کہا کہ ایران کو بتا دیا گیا ہے کہ امریکہ جانتا ہے کہ وہ کون سے فوجی اثاثے منتقل کر رہا ہے۔ ایران کو اپنے فیصلے عقلمندی سے کرنا ہوں گے کیونکہ کسی صورت ایران جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر مذاکراتی ٹیم ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ نہ کر پائی، تو امریکہ کی فورسز جنگ کے لیے تیار ہیں۔
امریکی وزیر جنگ نے ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرنے کے دعوے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی اپنی کوئی بحریہ نہیں ہے اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف بحری قزاقی کے مترادف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی توانائی صنعت مکمل طور پر تباہ نہیں ہوئی لیکن امریکی ناکہ بندی کی وجہ سے ایران کی برآمدات بند ہو رہی ہیں، اور جب تک ضرورت ہو گی، امریکہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی برقرار رکھے گا۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ امریکہ کے پاس دنیا کی سب سے طاقتور نیوی ہے اور ایران کے پاس ایسی کوئی صلاحیت باقی نہیں رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کو امید ہے کہ ایران ایسا معاہدہ کرے گا جو ان کی پہنچ میں ہو۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین نے اس بات کی وضاحت کی کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ایران کے علاقائی سمندری حدود اور بین الاقوامی پانیوں میں تمام جہازوں کے لیے ہوگی، چاہے وہ کسی بھی ملک سے تعلق رکھتے ہوں۔
جنرل ڈین کین نے مزید کہا کہ امریکی فوج ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے تیار ہے اور ایران کو مدد فراہم کرنے کی کوشش کرنے والے کسی بھی جہاز کا تعاقب کیا جائے گا۔
اس تمام صورتحال میں امریکہ نے اپنی فوجی طاقت کا بھرپور اظہار کیا ہے اور ایران کو سخت پیغام دیا ہے کہ اگر اس نے جوہری پروگرام اور علاقائی جارحیت کے حوالے سے اپنے فیصلے عقلمندی سے نہ کیے تو اس کے لیے مشکلات مزید بڑھ سکتی ہیں۔