دوبئی کے معروف برج الخلیفہ ہوٹل کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ دبئی کا مشہور لگژری ہوٹل 18 ماہ پر محیط بڑے پیمانے کی تزئین و آرائش کے لیے بند کیا جا رہا ہے جو 1999 میں افتتاح کے بعد پہلی بڑی مرمت ہوگی۔
یہ منصوبہ جمیرہ گروپ کی نگرانی میں مکمل کیا جائے گا، جس نے منگل کو جاری بیان میں بتایا کہ تزئین و آرائش کا کام مختلف مراحل میں تقریباً ڈیڑھ سال تک جاری رہے گا۔ اس منصوبے کی قیادت پیرس سے تعلق رکھنے والے معروف انٹیریئر آرکیٹیکٹ ٹرایسٹان اوورا کریں گے تاہم کمپنی نے اپنے بیان میں ہوٹل کی مکمل بندش کا واضح ذکر نہیں کیا۔
ذرائع کے مطابق، تزئین و آرائش کے دوران ہوٹل بند رہے گا اور جن مہمانوں کی بکنگ اس عرصے میں ہے انہیں قریبی ہوٹلز میں متبادل رہائش فراہم کی جا رہی ہے۔ بندش کا دورانیہ حالات کے مطابق تبدیل بھی ہو سکتا ہے۔
دبئی کی پہچان سمجھے جانے والے بادبان نما اس ہوٹل کو دوبئی کے نمایاں ترین سیاحتی مقامات میں شمار کیا جاتا ہے اور یہ جمیرا گروپ کی فلیگ شپ پراپرٹی ہے۔ رواں سال مارچ کے اوائل میں ایرانی ڈرون حملے کو روکنے کے دوران گرنے والے ملبے سے ہوٹل کے بیرونی حصے کو معمولی نقصان بھی پہنچا تھا۔
تاہم ہوٹل انتظامیہ کے مطابق یہ طویل عرصے سے منصوبہ بند تزئین و آرائش مارچ کے واقعے سے منسلک نہیں ہے، اور نہ ہی جمیرا گروپ نے اسے خطے میں جاری کشیدگی سے جوڑا ہے۔
مشرق وسطیٰ میں ایران جنگ کے باعث سیاحت کے شعبے کو دھچکا لگا ہے۔ پروازوں میں خلل اور سیکیورٹی خدشات کے باعث متحدہ عرب امارات بالخصوص دبئی آنے والے سیاحوں کی تعداد میں کمی دیکھی جا رہی ہے جبکہ لگژری ہوٹلز اور کاروباری ادارے بھی منافع پر دباؤ کی نشاندہی کر رہے ہیں۔