خیبر پختونخوا اسمبلی کے اجلاس کے دوران حکومتی بنچوں سے تعلق رکھنے والے رکن عبدالکریم تورڈھیر نے اپنی ہی حکومت کی کارکردگی پر کھل کر تنقید کرتے ہوئے متعدد اہم سوالات اٹھا دیے،ان کا کہنا تھا کہ عوام سے کیے گئے بڑے وعدے تاحال پورے نہیں ہو سکے۔
اجلاس کے دوران اظہار خیال کرتے ہوئے عبدالکریم تورڈھیر نے سوال اٹھایا کہ پچاس لاکھ گھروں کی تعمیر، دس لاکھ نوکریوں کی فراہمی، سیاحت کے فروغ اور معلوماتی ٹیکنالوجی کے شعبے میں ترقی کے دعوے کہاں گئے؟
انہوں نے کہا کہ یہ سب وعدے عوام سے کیے گئے تھے مگر عملی طور پر ان کا کوئی واضح نتیجہ نظر نہیں آ رہا، ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ اجلاس میں جب انہوں نے حقائق بیان کیے تو مشیر خزانہ مزمل اسلم ناراض ہو گئے، حالانکہ حقیقت بیان کرنا ہر منتخب نمائندے کا حق ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سالانہ ترقیاتی منصوبوں میں ان کے حلقے کی اسکیموں کو مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے، جو ناانصافی کے مترادف ہے، ترقیاتی فنڈز کی تقسیم میں پسند اور ناپسند کا عنصر ختم ہونا چاہیے تاکہ تمام علاقوں کو برابر مواقع مل سکیں۔
عبدالکریم تورڈھیر نے اپنے ضلع صوابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبے کے زیادہ آمدن دینے والے اضلاع میں شمار ہوتا ہے، اس کے باوجود وہاں کے عوام بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔
انہوں نے ضلع کرک میں کینسر جیسے خطرناک مرض کے پھیلاؤ پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ وہاں ایک معیاری درجہ اول کا ہسپتال تک موجود نہیں، جو حکومتی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے سستی بجلی پیدا کرنے کے باوجود نظام میں بہتری نہ آنے پر بھی افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ جدید نظام کی عدم موجودگی مسائل کو مزید بڑھا رہی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مؤثر قانون سازی کی جائے تاکہ عوام کو ان کے حقوق مل سکیں اور صوبے میں وسائل کا درست استعمال یقینی بنایا جا سکے۔