پاکستانی اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن سے متعلق اہم خبرآگئی، بھارتی میڈیا پر تبصرے شروع

پاکستانی اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن سے متعلق اہم خبرآگئی، بھارتی میڈیا پر تبصرے شروع

انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی ) مینز ٹی20 ورلڈ کپ سے پہلے پاکستان اور بھارت کے درمیان میچ کے دوران پاکستانی اسپنر عثمان طارق کے بولنگ ایکشن نے بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا پر تہلکہ مچا دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت کے کرکٹ حلقوں کی جانب سے بلاجواز اعتراضات سامنے آرہے ہیں، لیکن ماہرین اور سابق بین الاقوامی امپائرز نے واضح کر دیا ہے کہ عثمان طارق کا ایکشن آئی سی سی کے قوانین کے مطابق مکمل قانونی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پاک بھارت ہائی وولٹیج میچ: عثمان طارق کے ایکشن پر بحث، سابق بھارتی اسپنر کا بڑا اعلان

سابق بھارتی کرکٹر روی چندرن ایشون کے بعد اب بھارتی امپائر انیل چوہدری نے بھی ایک بھارتی ڈیجیٹل پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عثمان طارق کا ایکشن ہر لحاظ سے درست ہے اور ان کی بولنگ میں کوئی مسئلہ نہیں۔ انیل چوہدری نے مزید کہا کہ عثمان طارق ہر گیند اپنے مخصوص انداز اور روٹین کے مطابق پھینکتے ہیں اور جب تک وہ اسی انداز میں بولنگ کریں گے، کسی کو اعتراض کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

انیل چوہدری نے وضاحت کی کہ مسئلہ صرف اس وقت سامنے آ سکتا ہے جب بولر اپنے معمول کے ایکشن سے ہٹ کر گیند پھینکے۔ اگر بیٹر محسوس کرے کہ بولر نے اپنا روٹین ایکشن بدلا ہے تو وہ امپائر سے رجوع کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ عثمان طارق کی تمام گیندیں ایک ہی انداز میں ہیں، اس لیے کسی قسم کا اعتراض جائز نہیں۔

انہوں نے ماضی کی مثالیں بھی دی کہ کئی بین الاقوامی کھلاڑیوں کو اس وقت روکا گیا جب انہوں نے اپنے روٹین ایکشن سے ہٹ کر گیند پھینکی، لیکن عثمان طارق کے معاملے میں ایسا کوئی امکان نہیں۔ انیل چوہدری نے مزید کہا کہ اگر بیٹر گیند کھیلنے سے انکار کرے اور امپائر دیکھے کہ بولر اپنے روٹین ایکشن میں ہے، تو بیٹر کو وقت ضائع کرنے پر وارننگ دی جا سکتی ہے۔

اس سے قبل روی چندرن ایشون نے بھی واضح کیا کہ بولنگ ایکشن کی حتمی جانچ آئی سی سی کے ٹیسٹنگ سینٹرز میں ہوتی ہے، اور قوانین کے تحت 15 ڈگری تک خم جائز ہے۔ ان کے مطابق بولنگ کے دوران رکنا بھی قانونی ہے، بشرطیکہ یہ بولر کے معمول کے ایکشن کا حصہ ہو۔

بھارتی میڈیا اور سوشل میڈیا میں عثمان طارق کے ایکشن پر خوف و ہراس کے باوجود، سابق کرکٹر اور امپائرز کی وضاحت کے بعد یہ واضح ہو گیا ہے کہ عثمان طارق کا بولنگ ایکشن قانونی ہے اور بھارتی خدشات کی کوئی مضبوط بنیاد نہیں۔ اس کے باوجود بھارتی کرکٹ ٹیم میں عثمان طارق کا خوف نمایاں ہے، جس کی وجہ سے بھارتی حلقوں میں غیر ضروری بحث جاری ہے۔

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *