کیلیفورنیا کے شہر لانگ بیچ میں قدرت نے ایک ایسا نایاب منظر پیش کیا جس نے دیکھنے والوں کو حیرت میں ڈال دیا جہاں پانی کی سطح پر نیلی روشنیوں کا جادو بکھر گیا۔
یہ دلچسپ منظر کولوراڈو لیگون میں رات تقریباً 8 بجے اس وقت دیکھا گیا جب ایک فوٹوگرافر پیٹرک کوئن نے پانی میں ایک غیر معمولی چمک محسوس کی اور فوری طور پر کیمرہ کی آنکھ میں قید کر لیا۔ اسیے بعد میں معلوم ہوا کہ یہ دراصل بائیولومینیسنٹ فائر ورمز تھے یعنی ایسے کیڑے جو مخصوص حالات میں اپنی قدرتی روشنی خارج کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق یہ منظر لانگ بیچ میں صرف دوسری بار کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا گیا ہے جس کی وجہ سے یہ فوٹیج مزید اہمیت اختیار کر گئی ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ نایاب جاندار مخصوص چاندنی ادوارمیں پانی کی سطح پر ابھرتے ہیں۔ اس دوران مادہ کیڑے گول دائرے میں تیرتے ہوئے ایک چمکدار میوکس ٹریل چھوڑتے ہیں تاکہ نر کیڑوں کو اپنی طرف متوجہ کیا جا سکے۔ یہی عمل پورے پانی میں ایک جادوئی نیلی روشنی پیدا کر دیتا ہے جیسے سمندر کے اندر ستارے ٹمٹما اٹھے ہوں۔
یہ دلکش ’لائٹ شو‘زیادہ دیر نہیں چلتا۔ محض تقریباً 30 منٹ کے اندر یہ جاندار دوبارہ پانی کی تہہ میں چلے جاتے ہیں اور سمندر ایک بار پھر اپنی معمول کی خاموشی میں ڈوب جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے مناظر قدرتی ماحول کی حساسیت اور سمندری حیات کے پیچیدہ نظام کو سمجھنے میں مدد دیتے ہیں جبکہ عام لوگوں کے لیے یہ ایک ایسا نظارہ ہوتا ہے جسے وہ شاید زندگی میں ایک ہی بار دیکھ سکیں۔یہ لمحہ نہ صرف ایک سائنسی حیرت ہے بلکہ فطرت کے اس خوبصورت راز کی یاد دہانی بھی ہے جو ابھی تک مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا۔