شمالی وزیرستان کے علاقے بکا خیل میں سیکیورٹی فورسز کی بروقت اور مؤثر کارروائی کے دوران کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا ایک اہم دہشتگرد غفور عرف اعجاز ہلاک ہو گیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئی، جس میں دہشتگردوں کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران سیکیورٹی فورسز اور دہشتگردوں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں غفور عرف اعجاز موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔ کارروائی کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن بھی کیا گیا تاکہ کسی ممکنہ خطرے کا مکمل خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔
کالعدم تنظیم کی جانب سے اپنے ایک بیان میں غفور عرف اعجاز کی ہلاکت کی تصدیق بھی کر دی گئی ہے۔ غفور کا تعلق شمالی وزیرستان کے علاقے سیدگئی سے بتایا جاتا ہے اور وہ طویل عرصے سے دہشتگرد سرگرمیوں میں ملوث تھا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق ہلاک دہشت گرد سیکیورٹی فورسز پر حملوں اور دیگر تخریبی کارروائیوں میں بھی ملوث رہا ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق غفور عرف اعجاز کی ہلاکت کو سیکیورٹی فورسز کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے، جس سے علاقے میں دہشتگرد نیٹ ورک کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ مقامی آبادی نے بھی سیکیورٹی فورسز کی کارروائی کو سراہا اور امن کے قیام کے لیے اس عزم کا اظہار کیا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ریاستی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھا جائے گا۔
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ شمالی وزیرستان اور دیگر قبائلی اضلاع میں امن و امان کی صورتحال کو مزید بہتر بنانے کیلئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا سلسلہ جاری رہے گا، اور ملک دشمن عناصر کے خلاف بلا امتیاز کارروائیاں کی جاتی رہیں گی۔