امریکا کی طرف سے ایرانی جہاز قبضہ میں لیے جانے پر چین کا بھی سخت ردعمل آگیا

امریکا کی طرف سے ایرانی جہاز قبضہ میں لیے جانے پر چین کا بھی  سخت ردعمل آگیا

چین نے امریکا کی جانب سے ایرانی بحری جہاز کو قبضے میں لیے جانے کے اقدام پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حساس سفارتی مرحلے میں ایک خطرناک پیش رفت قرار دیا ہے، جو خطے میں جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہے۔

چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ چین ایران کے جہاز کو زبردستی روکے جانے اور مبینہ طور پر غیر قانونی طور پر قبضے میں لیے جانے کے عمل پر گہری تشویش رکھتا ہے۔ ترجمان کے مطابق ایسے اقدامات نہ صرف بین الاقوامی قوانین کے منافی ہیں بلکہ جاری سفارتی کوششوں کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات ایک نہایت نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ دونوں فریق جنگ بندی معاہدے کی پاسداری کریں اور ذمہ دارانہ رویہ اختیار کریں تاکہ خطے میں امن و استحکام برقرار رہ سکے۔

یہ بھی پڑھیں:ایرانی سپیکر باقر قالیباف کا مذاکات سے متعلق چونکا دینے والا بیان آگیا، نئی بحث چھیڑ گئی

چینی ترجمان نے مزید کہا کہ چین اس پورے عمل میں تعمیری اور مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے اور وہ چاہتا ہے کہ تمام تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے۔

دوسری جانب ایران نے امریکی اقدام پر سخت ردعمل دیتے ہوئے احتجاجاً مذاکراتی عمل سے علیحدگی اختیار کر لی ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے باقاعدہ پریس کانفرنس میں اعلان کیا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شریک نہیں ہوگا۔

 اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی کے باوجود آبنائے ہرمز میں اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور ایرانی جہاز کو غیر قانونی طور پر روک لیا، جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔ ان کے مطابق یہ اقدام نہ صرف سفارتی آداب کے خلاف ہے بلکہ خطے میں اعتماد سازی کی کوششوں کو بھی شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس پیش رفت کے بعد ایران اور امریکا کے درمیان مذاکراتی عمل مزید تعطل کا شکار ہو سکتا ہے جبکہ چین سمیت دیگر عالمی طاقتوں کی کوششیں اس کشیدگی کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *