پاکستان مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے درمیان اہم مشاورت کے بعد آئندہ مالی سال کے بجٹ کی منظوری کے لیے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے، وفاقی اور صوبائی ترقیاتی پروگراموں میں کٹوتی پر اتفاق کے بعد بجٹ سازی کے عمل کو حتمی شکل دینے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
نجی ٹی وی کے مطابق وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں 126 ارب روپے کی کمی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد وفاقی ترقیاتی پروگرام کا حجم کم ہو جائے گا۔
بلوچستان کے علاوہ تینوں صوبے ترقیاتی اخراجات کم کرینگے
بلوچستان کے علاوہ دیگر تینوں صوبے بھی اپنے ترقیاتی اخراجات میں کمی کریں گے، اس اقدام سے مجموعی طور پر تقریباً 500 ارب روپے کی بچت متوقع ہے، جسے قومی اور دفاعی اہمیت کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال نے ترقیاتی پروگرام میں 126 ارب روپے کی کٹوتی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں وفاق کی جانب سے ایک ہزار ارب روپے کا ترقیاتی پروگرام پیش کیا جائے گا،اطلاعات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کی منظوری سے اس پروگرام کا حجم بعد میں بڑھا کر 1326 ارب روپے تک بھی کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاق نے صوبوں سے اضافی مالی وسائل کی فراہمی کی درخواست کی تھی، تاہم بلوچستان کے ترقیاتی بجٹ میں مزید کمی نہ کرنے پر اتفاق ہوا ہے کیونکہ صوبے کا ترقیاتی پروگرام پہلے ہی گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں کم رکھا گیا ہے، پنجاب، سندھ اور خیبرپختونخوا اپنے ترقیاتی منصوبوں کے اخراجات میں کمی یا انہیں محدود کرنے پر غور کر رہے ہیں۔
حکومت بچت کی رقم کا بڑا حصہ آبی ذخائر پر خرچ کرنا چاہتی ہے
حکومت بچت ہونے والی رقم کا بڑا حصہ آبی ذخائر اور توانائی سے متعلق اہم منصوبوں پر خرچ کرنا چاہتی ہے، جن میں دیامر بھاشا ڈیم، مہمند ڈیم اور داسو ڈیم شامل ہیں، اس کے علاوہ دفاعی نوعیت کے اہم منصوبوں کے لیے بھی اضافی وسائل مختص کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 سے 10 فیصد تک اضافے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ اتحادی جماعتوں کے دباؤ کی صورت میں یہ اضافہ 15 فیصد تک بھی جا سکتا ہے، اسی طرح کارپوریٹ شعبے، برآمد کنندگان اور بعض کاروباری اداروں کے لیے بھی ممکنہ ریلیف پیکج پر غور جاری ہے۔
بعض شعبوں میں ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجاوی
حکومت آئندہ مالی سال کے لیے معاشی ترقی کی شرح 4 فیصد اور اوسط مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد مقرر کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ دوسری جانب نئے مالی سال کے بجٹ میں تقریباً 220 ارب روپے کے نئے محصولات عائد کرنے اور بعض شعبوں میں ٹیکس چھوٹ ختم کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں۔
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقد ہوگا جس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، آزاد کشمیر کی قیادت اور دیگر متعلقہ حکام شرکت کریں گے۔
اجلاس میں ترقیاتی اخراجات، وسائل کی تقسیم، معاشی اہداف اور بجٹ کی مجموعی حکمت عملی سے متعلق اہم فیصلوں کی منظوری متوقع ہے۔ بعد ازاں اقتصادی جائزہ پیش کیا جائے گا جبکہ وفاقی کابینہ بجٹ مسودے اور سرکاری ملازمین کے لیے مجوزہ مالی ریلیف کی منظوری دے گی۔