4 اکتوبر احتجاج کیس: عمر ایوب اشتہاری قرار، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم

4 اکتوبر احتجاج کیس: عمر ایوب اشتہاری قرار، پاسپورٹ اور شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم

انسداد دہشت گردی عدالت اسلام آباد نے 4 اکتوبر احتجاج کے کیس میں رہنما تحریک انصاف عمر ایوب کو اشتہاری قرار دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت کے جج طاہر عباس سپرا نے سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کیخلاف 4 اکتوبر احتجاج کیس کی سماعت کی۔

دوران سماعت عدالت نے رہنما پی ٹی آئی عمر ایوب کی پراپرٹی کی تفصیلات بھی طلب کر لیں اور عدالت نے عمر ایوب کا پاسپورٹ و شناختی کارڈ بلاک کرنے کی بھی حکم دے دیا۔

یہ بھی پڑھیں:سنگجانی جلسہ کیس : عمرایوب، وقاص اکرم اور زرتاج گل کے وارنٹ گرفتاری جاری

یاد رہے کہ سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کیخلاف 4 اکتوبر کو احتجاج کرنے کے کیس میں دہشت گردی کی دفعات کے تحت تھانہ نون میں مقدمہ درج ہے۔

اس سے قبل اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت (اے ٹی سی) نے قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر عمر ایوب کے گزشتہ سال اکتوبر کے احتجاج سے متعلق مقدمے میں قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے ۔

4 اکتوبر 2024 کو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے مظاہرین اور اسلام آباد پولیس کے درمیان اس وقت جھڑپیں ہوئیں، جب سیکڑوں پارٹی کارکنوں نے سیکیورٹی اقدامات اور سڑکوں کی بندش کے باوجود شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے اجلاس سے چند روز قبل مختلف مقامات پر اکٹھا ہونے کی کوشش کی تھی، اس موقع پر سابق وزیراعظم عمران خان کی دو بہنوں سمیت 100 سے زائد پی ٹی آئی کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

مزید پڑھیں:9مئی مقدمات: عمر ایوب، زرتاج گُل اور شبلی فراز کو 10، 10 سال قید کی سزائیں

مئی میں اسلام آباد پولیس کی پراسیکیوشن نے 4 اکتوبر کے احتجاج پر کورال تھانے میں درج مقدمے میں پی ٹی آئی کی اعلیٰ قیادت (جن میں عمر ایوب، چیئرمین گوہر خان، کے پی کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بیرسٹر محمد علی سیف) کو بھی نامزد کیاتھا۔

وفاقی دارالحکومت کے نون اور رمنا تھانوں میں بھی ان جھڑپوں سے متعلق دیگر مقدمات درج کیے گئے تھے۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *