پاکستان میں رواں مالی سال کے ابتدائی چار ماہ کے دوران موبائل فونز کی درآمدات میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ سامنے آیا ہے، جس سے نہ صرف مقامی مارکیٹ میں ٹیکنالوجی کی بڑھتی ہوئی طلب کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ یہ ٹیک ڈیوائسز کے استعمال میں تیزی سے اضافے کی نشاندہی بھی کرتا ہے۔
سرکاری اعدادوشمار کے مطابق جولائی سے اکتوبر 2025 کے دوران موبائل فونز کی مجموعی درآمدات 64 کروڑ 46 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جو گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 53 فیصد سے زیادہ اضافہ ہے۔
اس تیزی نے ماہرین کو ایک بار پھر اس بحث کی طرف متوجہ کیا ہے کہ آیا بڑھتی ہوئی درآمدات ملکی معیشت پر بوجھ بڑھا رہی ہیں یا یہ صارفین کے بدلتے ہوئے رجحانات کا مثبت اشارہ ہیں۔
گزشتہ مالی سال کے انہی چار ماہ میں ملک نے موبائل فونز کی خریداری پر 42 کروڑ ڈالر خرچ کیے تھے، جبکہ موجودہ سال میں یہ حجم کہیں آگے نکل چکا ہے۔
جولائی 2025 میں پاکستان نے 14 کروڑ 53 لاکھ ڈالر مالیت کے موبائل فون درآمد کیے جبکہ اگست میں درآمدات میں اضافہ دیکھنے میں آیا اور یہ حجم بڑھ کر 15 کروڑ 52 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔ستمبر کے مہینے میں درآمدات میں سب سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا اور ملک نے 19 کروڑ 95 لاکھ ڈالر کے موبائل فون بیرون ملک سے منگوائے، جو چار ماہ میں سب سے بڑی ماہانہ خریداری تھی۔
اسی طرح اکتوبر میں بھی درآمدات کا سلسلہ جاری رہا اور اسی مہینے میں مزید 14 کروڑ 46 لاکھ ڈالر کے فون درآمد ہوئے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس مسلسل اضافے کی کئی وجوہات ہیں، ایک جانب جدید ٹیکنالوجی کے استعمال میں تیزی آرہی ہے جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی کمپنیوں کی جانب سے نئے ماڈلز کی بروقت لانچنگ صارفین کو اپ گریڈ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔
اس کے علاوہ مقامی مارکیٹ میں مقابلہ بڑھنے، کرنسی کی قدر میں اتار چڑھاؤ اور درآمدی پالیسیوں میں نرمی جیسے عوامل بھی مجموعی درآمدات پر اثر انداز ہو رہے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے مہینوں میں موبائل فون مارکیٹ نہ صرف مزید وسعت اختیار کرے گی بلکہ درآمدات کا حجم بھی مزید بڑھ سکتا ہے، جس کے معیشت پر مثبت اور منفی دونوں طرح کے اثرات سامنے آ سکتے ہیں۔