علیمہ خان کو بڑی مایوسی،کے پی کے حکومت نے اہم ترین ہدایات نظر انداز کر دیں

علیمہ خان کو بڑی مایوسی،کے پی کے حکومت نے اہم ترین ہدایات نظر انداز کر دیں

خیبرپختونخوا حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی چیئرمین عمران خان سے مشاورت کے بغیر صوبائی بجٹ کی تیاری مکمل کرتے ہوئے اسے 15 جون کو اسمبلی میں پیش کرنے کی تیاری کر لی ہے۔ اس پیش رفت نے پارٹی کے اندر جاری سیاسی بحث اور اختلافات کو مزید نمایاں کر دیا ہے۔

ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا حکومت نے صوبائی اسمبلی سیکریٹریٹ کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا ہے کہ بجٹ اجلاس 15 جون سے شروع ہوگا اور 30 جون تک جاری رہے گا۔ اس سلسلے میں اسمبلی سیکریٹریٹ نے اجلاس کا ابتدائی شیڈول بھی مرتب کر لیا ہے۔

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب بانی چیئرمین پی ٹی آئی کی بہن علیمہ خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو یہ ہدایت دی تھی کہ عمران خان سے مشاورت کے بغیر بجٹ پیش نہ کیا جائے۔ ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض ناراض اراکین اسمبلی نے بھی علیمہ خان کے مؤقف کی حمایت کی تھی اور مطالبہ کیا تھا کہ صوبائی بجٹ کی منظوری سے قبل بانی چیئرمین کی رائے لی جائے۔

یہ بھی پڑھیں:پارلیمانی پارٹی کے تحفظات کے باوجود وزیر اعلی سہیل آفریدی وزراء کی نئی ٹیم سامنے لے آے

تاہم صوبائی حکومت نے آئینی اور انتظامی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ کی تیاری کا عمل مکمل کر لیا ہے اور اسمبلی سیکریٹریٹ کو بجٹ اجلاس کے انعقاد کے حوالے سے باضابطہ آگاہ کر دیا گیا ہے۔

مجوزہ شیڈول کے مطابق 15 جون کو بجٹ پیش کیا جائے گا جبکہ 16 اور 17 جون کو وقفہ رکھا جائے گا۔ 18 جون سے بجٹ پر عام بحث کا آغاز ہوگا جس کے لیے تین دن مختص کیے گئے ہیں۔ اس کے بعد مختلف محکموں کے مطالباتِ زر اور بجٹ سے متعلق دیگر کارروائیاں انجام دی جائیں گی۔

اسمبلی ذرائع کے مطابق بجٹ پر بحث مکمل ہونے کے بعد ضمنی بجٹ اور اضافی اخراجات سے متعلق امور بھی ایوان میں زیرِ غور آئیں گے۔ بجٹ اجلاس کے دوران حکومت اپنے ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات، آئندہ مالی سال کی ترجیحات اور مختلف شعبوں کے لیے مختص فنڈز کی تفصیلات بھی پیش کرے گی۔

 بجٹ کی تیاری اور پیشی کے معاملے پر پارٹی کے اندر مختلف آراء سامنے آنا پی ٹی آئی کی اندرونی سیاسی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم صوبائی حکومت کا مؤقف ہے کہ آئینی تقاضوں اور مالی سال کے شیڈول کے مطابق بجٹ کی بروقت منظوری ضروری ہے تاکہ صوبے کے انتظامی اور ترقیاتی امور متاثر نہ ہوں۔

editor

Related Articles