شدید گرمی کی لہر ،ہیٹ ویو کا خطرہ،قومی ادارہ صحت کی ہنگامی ایڈوائزری جاری

شدید گرمی کی لہر ،ہیٹ ویو کا خطرہ،قومی ادارہ صحت کی ہنگامی ایڈوائزری جاری

ملک بھر میں شدید گرمی کی لہر نے صورتحال کو خطرناک بنا دیا ہے جبکہ قومی ادارہ صحت نے ہیٹ ویو اور سن اسٹروک سے بچاؤ کے لیے ہنگامی ایڈوائزری جاری کر دی ہے۔

بڑھتے ہوئے درجہ حرارت اور مسلسل خشک موسم نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔ ماہرین صحت نے خبردار کیا ہے کہ اگر احتیاط نہ کی گئی تو ہیٹ سٹروک جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے اور ہسپتالوں پر دباؤ بھی بڑھ سکتا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت

قومی ادارہ صحت کے مطابق موسمیاتی تبدیلی اور عالمی حدت کے باعث پاکستان میں شدید گرمی کی لہروں کی شدت اور دورانیہ دونوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ادارے نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی ہے کہ ہیٹ سٹروک سے نمٹنے کے لیے ہنگامی تیاریوں کو مزید مؤثر بنایا جائے اور طبی مراکز میں خصوصی انتظامات یقینی بنائے جائیں۔

براہ راست دھوپ میں جانے سے گریز کریں

ایڈوائزری میں شہریوں کو سختی سے ہدایت کی گئی ہے کہ وہ براہ راست دھوپ میں جانے سے گریز کریں خاص طور پر دوپہر کے اوقات میں غیر ضروری باہر نکلنے سے پرہیز کیا جائے۔ جسم میں پانی کی کمی کو پورا رکھنے کے لیے زیادہ مقدار میں پانی پینے اور نمکیات والی غذاؤں کے استعمال کی سفارش کی گئی ہے۔ بزرگ افراد، بچے، حاملہ خواتین، اور بیرونی کام کرنے والے افراد کو خصوصی احتیاط کی ہدایت کی گئی ہے۔

ہیٹ سٹروک کی علامات

ماہرین کے مطابق ہیٹ سٹروک کی علامات میں چکر آنا، الٹی، جسم کا درجہ حرارت غیر معمولی بڑھ جانا، پسینہ بند ہو جانا اور نظر دھندلی ہونا شامل ہیں۔ ایسی صورتحال میں فوری طور پر متاثرہ شخص کو سایہ دار جگہ پر منتقل کر کے جسم کو ٹھنڈا کرنا ضروری ہے اور جلد از جلد طبی امداد حاصل کرنی چاہیے۔

چائے اور کافی جیسے مشروبات سے پرہیز

ادارے نے مزید کہا ہے کہ شدید گرمی میں چائے اور کافی جیسے مشروبات سے پرہیز کیا جائے کیونکہ یہ جسم میں پانی کی کمی کو بڑھا سکتے ہیں۔ بیرونی کام کرنے والے افراد کو ہر تھوڑی دیر بعد وقفہ لینے اور سر کو ڈھانپ کر کام کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ تاخیر کی صورت میں ہیٹ سٹروک مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔

editor

Related Articles