سینئر سیاستدان شیر افضل مروت کا بانی پی ٹی آئی کی ممکنہ رہائی سے متعلق بڑا انکشاف

سینئر سیاستدان شیر افضل مروت کا بانی پی ٹی آئی کی ممکنہ رہائی سے متعلق بڑا انکشاف

سینئر سیاستدان شیرافضل مروت نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی کی رہائی 3 بار ممکن ہوتے ہوتے بچی ہے، ہم نے اسکا ادراک نہیں کیا۔

تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے پی ٹی آئی کے سابق رہنما شیرافضل مروت نے کہا کہ ہمارا تکبر تھا یا ہم نے ادراک نہیں کیا، بانی کی 3 بار رہائی ممکن تھی، اکتوبر 2024 میں فیصلہ ہوا، بیرسٹر گوہر، بیرسٹر سیف، علی امین گواہ ہیں۔

شیرافضل مروت نے کہا کہ فیصلہ ہوا کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی دونوں کو ضمانت پر رہا کیا جائے، اس وقت فیض کے نام کا تنازع کھڑا ہوا کہ وہ بھی رہا ہوں۔

انھوں نے بتایا کہ فیض حمید کی رہائی سے متعلق اس وقت مانا نہیں گیا تھا، 24 نومبر 2024 کو بھی بانی کی رہائی کےلیے ایک ہفتے کا وقت دیا گیا۔

سینئر سیاستدان نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کےساتھ عقیدت اور محبت ہی بنیادی طور پر پی ٹی آئی ہے، بانی کے بغیر پارٹی کا کوئی تصور نہیں بچتا، مائنس ون نہیں ہوسکا، بانی ایم کیوایم مائنس کا فارمولہ بانی پی ٹی آئی پر نہیں چلایا جاسکتا۔

مزید پڑھیں: اڈیالہ جیل کے باہر پی ٹی آئی کارکنان میں شدید تلخ کلامی، ایم این اے شاہد خٹک اور کارکن آمنے سامنے

شیرافضل مروت نے کہا کہ میں ان بیانیوں کا ساتھ نہیں دے سکتا جو ٹکراؤ کی جانب جائے، پی ٹی آئی کے مفاہمت پسند لوگ آرام سے یہ گاڑی چلاسکتے تھے، پی ٹی آئی میں اس وقت فکر کا جھگڑا ہے، ایک فکر سمجھتی ہے بانی کی رہائی ضروری ہے۔

انھوں نے کہا کہ پی ٹی آئی ہوگی تو پابندی لگےگی، یہ پارٹی تو رجسٹر ہی نہیں ہے، پی ٹی آئی کی انٹراپارٹی الیکشن کے بعد سے رجسٹریشن نہیں ہوئی

شیرافضل مروت نے کہا کہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کے بیان کے بعد حالات خراب ہوئے، گورنرراج مرکزی حکومت کا آخری آپشن ہوگا اس سے پہلے کوئی اور آپشن ضرور آزمایا جائےگا۔

سینئر سیاستدان نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ سہیل آفریدی سے جان چھڑانے کےلیے آپشن ضرور آزمائیں گے، وزیراعلیٰ کےپی سہیل آفریدی نے اپنے لہجے کو کافی تبدیل کیا ہے، پی ٹی آئی سے متعلق ایک ہفتے میں بہت ساری چیزیں کھل کرآجائیں گی۔

editor

Related Articles

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *