امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ اسلام آباد میں امن مذاکرات کے لیے ایرانی وفد کے دورے کے دوران اسرائیل ایران کے اعلیٰ مذاکرات کاروں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق اسرائیل کا منصوبہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کو نشانہ بنانے کا تھا۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے خدشات کے پیش نظر خطے کے بعض ممالک کے ذریعے ایران کو ممکنہ اسرائیلی کارروائی سے بھی آگاہ کیا۔
امریکی اخبار کے مطابق اپریل میں اسلام آباد کے دورے کے دوران ایرانی حکام نے امریکا سے پاکستانی اور قطری ثالثوں کے ذریعے اس بات کی ضمانت طلب کی تھی کہ ایرانی وفد کو نشانہ نہیں بنایا جائے گا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ پاکستانی فضائیہ کے طیاروں نے ایرانی وفد کے طیارے کو ایران سے پاکستان اور پاکستان سے ایران تک حصار میں رکھا۔
امریکی اخبار کے مطابق واپسی پر ایرانی حکام کو اسرائیلی طیاروں کے عراق سے ایران میں داخل ہونے سے متعلق انٹیلیجنس موصول ہوئی، جسے واپس آنے والے طیارے تک پہنچایا گیا، جس کے بعد طیارے کو مشہد ایئرپورٹ پر اتار لیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس واقعے کی تصدیق محمد باقر قالیباف کے سینئر معاون محمد مرانڈی نے بھی کی تھی۔