وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق ملک میں مہنگائی کی ہفتہ وار شرح میں 0.98 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ مجموعی سالانہ مہنگائی کی شرح کم ہو کر 13.52 فیصد پر آ گئی ہے۔
مجموعی مہنگائی میں کمی کے باوجود روزمرہ استعمال کی متعدد ضروری اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے جس سے صارفین کو بدستور مالی دباؤ کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے کے دوران 23 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ سب سے زیادہ اضافہ ٹماٹر کی قیمت میں دیکھا گیا، جو 125.40 فیصد بڑھ گئی۔ اسی طرح پیاز کی قیمت میں 10.72 فیصد، آلو کی قیمت میں 10.06 فیصد، انڈوں کی قیمت میں 8.32 فیصد اور آٹے کی قیمت میں 5.08 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اس کے علاوہ دودھ، دہی، چاول اور دیگر روزمرہ استعمال کی کئی اشیاء بھی مہنگی ہوئیں۔
یہ بھی پڑھیں :امریکا ایران تنازع حل ہوا توپاکستان کو بڑا معاشی ریلیف ملے گا، مہنگائی 6 سے 7 فیصد تک گر سکتی ہے، محمد اورنگزیب
دوسری جانب بعض اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کمی بھی دیکھنے میں آئی۔ رپورٹ کے مطابق چکن کی قیمت میں 1.97 فیصد اور کیلے کی قیمت میں 1.44 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔ اسی طرح دالوں، چینی، پیٹرول، ایل پی جی اور لہسن کی قیمتوں میں بھی کمی واقع ہوئی جس سے صارفین کو جزوی ریلیف ملا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مجموعی ہفتہ وار مہنگائی میں کمی ایک مثبت اشارہ ہے تاہم ضروری اشیائے خور و نوش، خصوصاً سبزیوں اور غذائی اجناس کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ عام شہریوں کے گھریلو بجٹ پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق قیمتوں میں استحکام کے لیے موثر حکومتی اقدامات اور منڈیوں کی بہتر نگرانی ضروری ہے تاکہ عوام کو حقیقی معنوں میں ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

