راولپنڈی میں یکم جنوری 2026 سے گھروں اور دکانوں سے کچرا ٹیکس وصول کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ ایکسائز، ٹیکسیشن اور نارکوٹکس کنٹرول ڈپارٹمنٹ کی جانب سے پراپرٹی ٹیکس کے اہداف پورے نہ ہونے اور آمدن میں شدید کمی کے باعث کیا گیا ہے۔
محکمہ کے ڈائریکٹر جنرل نے ناقص کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ٹیکس وصولی میں تیزی لانے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
ذرائع کے مطابق راولپنڈی ڈویژن میں پراپرٹی برانچ گزشتہ 6 ماہ کے دوران اپنے مقررہ ٹارگٹس حاصل کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث شارٹ فال کی شرح 55 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ صورتحال کو سنگین قرار دیتے ہوئے محکمہ نے وصولیوں کو بہتر بنانے کے لیے سخت اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔
ایکسائز ڈیپارٹمنٹ کو کمپنیوں اور شہریوں کی جانب سے پیشہ ورانہ ٹیکس جمع نہ ہونے کی متعدد شکایات موصول ہوئی تھیں، جس پر ایک کانسٹیبل کے خلاف کارروائی بھی عمل میں لائی گئی ہے۔ محکمہ کا کہنا ہے کہ ٹیکس نظام میں بدعنوانی اور غفلت کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔
محکمہ نے اعلان کیا ہے کہ 10 جنوری سے 20 جنوری کے دوران کچرا ٹیکس کے بلز جاری کیے جائیں گے۔ اگر مقررہ مدت میں بلز ادا نہ کیے گئے تو نادہندگان کے خلاف مقدمات درج کیے جائیں گے اور گرفتاریاں بھی عمل میں آ سکتی ہیں۔ حکام کے مطابق یہ اقدام ٹیکس نظم و ضبط کو یقینی بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔
ٹیکس بلز کی تقسیم کے لیے عارضی افرادی قوت کو روزانہ اجرت پر تعینات کیا جائے گا، جبکہ ایکسائز ڈپارٹمنٹ کو مجموعی وصولیوں کا 10 فیصد بطور معاوضہ دیا جائے گا۔ محکمہ کا مؤقف ہے کہ اس اقدام سے بلز کی بروقت ترسیل اور وصولیوں میں اضافہ ممکن ہوگا۔
تفصیلات کے مطابق شہری علاقوں میں ایک منزلہ گھر سے 300 روپے، ڈبل اسٹوری سے 600 روپے اور ٹرپل اسٹوری گھر سے 900 روپے کچرا ٹیکس وصول کیا جائے گا، جبکہ دیہی یونین کونسلوں میں ہر گھر سے صرف 200 روپے ٹیکس لیا جائے گا۔ دکان داروں کو بھی 300 روپے کچرا ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
گھروں کے سائز کے مطابق کچرا ٹیکس کی شرح 300 سے 1200 روپے تک مقرر کی گئی ہے، جبکہ تجارتی دکانوں اور صنعتی یونٹس سے 1,000 سے 5,000 روپے تک ٹیکس وصول کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ٹیکس کی شرح انصاف کے تقاضوں کے مطابق رکھی گئی ہے۔
ایکسائز ڈپارٹمنٹ کے مطابق غیر ادائیگی کرنے والوں کے خلاف کارروائی پہلے ہی جاری ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران متعدد جائیدادیں سیل کی گئیں اور 5.8 ملین روپے ٹیکس وصول کیا گیا۔ محکمہ نے واضح کیا ہے کہ یہ کارروائیاں 31 دسمبر تک بلا تعطل جاری رہیں گی تاکہ مقررہ اہداف حاصل کیے جا سکیں۔