بنگلادیش کے چیف ایڈوائزر پروفیسر محمد یونس نے کہا ہے کہ ملک میں عام انتخابات 12فروری کو مقررہ وقت پر ہی ہوں گے۔
عبوری سربراہ محمد یونس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ معزول آمرانہ حکومت کے حامی مبینہ طور پر انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کے لیے لاکھوں ڈالر خرچ کر رہے ہیں، معزول حکومت کے رہنما تشدد کو ہوا دے رہے ہیں۔
محمد یونس کا کہنا ہے کہ عبوری حکومت کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ عوام اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے بے تاب ہے، جسے پچھلی آمرانہ حکومت نے چھین لیا تھا ، آزادانہ، منصفانہ اور پُرامن انتخابات کرانا چاہتے ہیں اور اسے یادگار بنانا چاہتے ہیں۔
واضح رہے کہ بنگلہ دیش کے الیکشن کمیشن نے اعلان کیا تھا کہ ملک میں عام انتخابات 12 فروری 2026 کو ہوں گے۔
یہ انتخابات گزشتہ سال سابق وزیرِاعظم شیخ حسینہ کی حکومت کو طلبہ کی قیادت میں ہونے والی احتجاجی تحریک کے ذریعے ہٹائے جانے کے بعد پہلے عام انتخابات ہوں گے ، ملک کے عبوری رہنما اور نوبیل امن انعام یافتہ محمد یونس انتخابات کے بعد مستعفی ہو جائیں گے۔
دوسری جانب نوجوان امیدوار برائے انتخابات شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد سخت عوامی ردعمل اور غم و غصے کی فضا ہے، 32سالہ شریف عثمان ہادی نوجوانوں اور طلبہ کی اس تحریک کا اہم لیڈر تھا جس نے مفرور وزیر اعظم حسینہ واجد کی حکومت کا 5 اگست 2024 میں تختہ الٹنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
شریف عثمان ہادی کو انتخابی مہم کے دوران قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا گیا جس کے بعد وہ چھ دن تک سنگاپور کے ایک ہسپتال میں زیر علاج رہے تاہم وہ جانبر نہ ہو سکے۔
اس کے بعد سے دارالحکومت ڈھاکہ کے علاوہ بھی بنگلہ دیش کے دیگر شہروں میں بھی احتجاجی سلسلہ جاری ہے ، ان شہروں میں چٹاگانگ اور دیگر بڑے دوسرے شہر بھی شامل ہیں۔